
امریکہ میں مسلمانوں کے شہری حقوق کی سب سے بڑی تنظیم کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز (CAIR) نے ریاست فلوریڈا میں اپنی سرگرمیاں معطل کر دی ہیں۔
یہ اقدام ریاست کے ریپبلکن گورنر رون ڈی سینٹس کی جانب سے ایک بے مثال قانون پر دستخط کے بعد سامنے آیا ہے، جس کے تحت سرکاری حکام کو مختلف گروہوں پر الزام عائد کرنے اور انہیں "دہشت گرد تنظیم” قرار دینے اور ان کے قانونی اختیارات سلب کرنے کے وسیع اختیارات حاصل ہو گئے ہیں۔
اس قانون کے نفاذ سے سماجی کارکنوں میں اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغن اور مسلم برادری کے خلاف منظم دباؤ میں اضافے کے حوالے سے شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق وفاقی عدالت نے اس مسلم تنظیم کی جانب سے فیصلہ منسوخ کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے، تاہم کونسل نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس فیصلے کو چیلنج کرے گی۔

کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز کا کہنا ہے کہ ریاستی حکام کے حالیہ اقدامات کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے اور اس سے معاشرے میں اسلام مخالف جذبات کو مزید ہوا ملے گی۔
دریں اثنا، امریکن سول لبرٹیز یونین (ACLU) اور پین امریکہ (PEN America) سمیت انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس قانون کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے ضابطے اقلیتوں کے لیے تنظیم سازی اور اپنے خیالات کے اظہار کے ماحول میں خوف اور تنہائی کو جنم دیتے ہیں۔




