اسلامی دنیا

25 جمادی الاول؛ یوم وفات علی بن عبدالعالی میسی عاملی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ

تاریخِ تشیع میں بعض شخصیات کی عظمت ان کے علمی آثار اور تربیت یافتہ شاگردوں سے نمایاں ہوتی ہے۔ جبل عامل کے نامور فقیہ، محقق اور استاد شیخ علی بن عبدالعالی میسی عاملی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ انہی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے دسویں صدی ہجری میں علومِ اہل بیت علیہم السلام کی ترویج اور فقہ جعفری کے علمی تسلسل میں اہم کردار ادا کیا۔

شیخ میسی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کا تعلق جبل عامل کے علاقے میس سے تھا، جو صدیوں تک تشیع کا اہم علمی مرکز رہا ہے۔ ان کی علمی و اخلاقی شخصیت کا اعتراف ان کے عہد کے ممتاز علماء نے کیا۔ بالخصوص شہید ثانی شیخ زین الدین بن علی عاملی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے استاد کا ذکر نہایت احترام سے کیا اور انہیں فاضل، محقق، عابد، زاہد اور متقی جیسے القابات سے یاد کیا۔

شیخ میسی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی علمی عظمت کا ایک اہم پہلو شہید ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ جیسے جلیل القدر فقیہ کی تربیت ہے۔ شہید ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی علمی و فقہی خدمات نے بعد کے ادوار میں حوزاتِ علمیہ پر گہرے اثرات مرتب کئے۔ اس اعتبار سے شیخ میسی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کا مقام صرف ایک فقیہ اور مدرس کا نہیں، بلکہ اس علمی سلسلہ کے ایک اہم معمار کا بھی ہے جس نے فقہ اہل بیت علیہم السلام کو آئندہ نسلوں تک منتقل کیا۔

ان کی علمی سرگرمیاں تدریس تک محدود نہیں تھیں۔ قدیم تذکروں میں ان کی فقہی تصانیف اور شروح کا ذکر ملتا ہے، جن میں شرحِ جعفریہ اور شرحِ قواعدِ علامہ حلی شامل ہیں۔ فقہی متون کی تشریح و تحقیق کے ذریعہ انہوں نے علمی مباحث کے فروغ اور فقہی میراث کے تحفظ میں حصہ لیا۔

ان کی شخصیت کا نمایاں وصف علم کے ساتھ زہد، عبادت اور تقویٰ تھا۔ شہید ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی جانب سے ان کے لئے عابد و زاہد کے القابات کا استعمال اس بات کی شہادت ہے کہ ان کا علمی مقام اخلاقی کردار سے بھی وابستہ تھا۔ یہی وہ امتیاز ہے جو ایک عالم کو محض صاحبِ علم نہیں، بلکہ معاشرے کے لئے نمونۂ عمل بناتا ہے۔

شیخ علی بن عبدالعالی میسی عاملی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی وفات 25 جمادی الاول 938 ہجری میں ہوئی۔ آیۃ اللہ سید محمدباقر خوانساری رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے ’’روضات الجنات‘‘ میں شہید ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے والد شیخ حسین بن عبدالصمد رضوان اللہ تعالیٰ علیہ سے منقول ایک تحریر کے حوالے سے ان کی وفات اور جبل صدیق النبی میں تدفین کا ذکر کیا ہے۔

25 جمادی الاول کو ان کی یاد منانا محض ایک علمی شخصیت کی وفات کی یاد تازہ کرنا نہیں، بلکہ اس علمی روایت کی قدر شناسی بھی ہے جس کی بنیاد تحقیق، تدریس، اخلاق اور تربیت پر قائم تھی۔ آج ضرورت ہے کہ ایسے علماء کی تصانیف کی تحقیق و اشاعت کی جائے اور نئی نسل کو ان کے علمی و اخلاقی ورثے سے روشناس کرایا جائے۔

شیخ میسی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی زندگی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ علم کی حقیقی میراث کتابوں میں محفوظ ہونے کے ساتھ کردار اور شاگردوں کی تربیت کے ذریعہ بھی زندہ رہتی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button