ہندوستانی جمہوریت کا امتحان: کیا 30 کروڑ مسلمان نظام سے مایوس ہیں؟

ہندوستان کے سیاسی ڈھانچے کی اقلیتوں کے تئیں کارکردگی پر تنقیدی سوالات اٹھائے جانے کے بعد علمی اور سیاسی حلقوں میں بحث کی ایک نئی لہر چل پڑی ہے۔
اس بحث نے ایک بار پھر دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں مسلمانوں کے شہری اور مذہبی حقوق کی صورتحال کی جانب عالمی توجہ مبذول کرائی ہے۔
ہمارے ساتھی نے اپنی رپورٹ میں اسی موضوع کا جائزہ لیا ہے، آئیے ملاحظہ کرتے ہیں:
ہندوستانی سماج حالیہ برسوں میں گہری سماجی و سیاسی صف بندیوں کا شکار ہوا ہے۔ ان حالات میں مذہبی اقلیتیں، بالخصوص مسلمان، بڑھتے ہوئے دباؤ اور قانونی تحفظ و سماجی مقام سے متعلق تشویش سے دوچار ہیں۔
اسی دوران یہ سوال بھی موضوعِ بحث بن گیا ہے کہ ہندوستان کا نظامِ حکمرانی سیکولرازم اور اقلیتی حقوق کے اصولوں کا کس حد تک پابند ہے۔
حالیہ بحث کا آغاز "شرجیل امام” کے ایک انٹرویو سے ہوا، جو جیل کے اندر سے دیا گیا۔ شرجیل امام ہندوستانی مسلم اسکالر ہیں اور شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف 2019 کے احتجاج کے سرگرم کارکنوں میں شمار ہوتے ہیں۔
شاہین باغ کے احتجاجی دھرنے کے منتظمین میں شامل شرجیل امام کو جنوری 2020 میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ تاحال عدالتی کارروائی کا سامنا کر رہے ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق شرجیل امام کا کہنا ہے کہ مسلمان ملک کی آبادی کا تقریباً 14 فیصد، یعنی 30 کروڑ کے لگ بھگ ہیں، اس کے باوجود سیاسی اقتدار اور انتظامی ڈھانچے میں انہیں آبادی کے تناسب سے نمائندگی حاصل نہیں ہے۔

انہوں نے اقتدار کے ارتکاز اور اقلیتی حقوق کو نظرانداز کیے جانے کے لحاظ سے سرکاری سیکولرازم اور ہندوتوا کے نظریے کے درمیان مماثلت کی بھی نشاندہی کی ہے۔
اس کے برعکس ہندوستانی قانون داں محمد ذیشان احمد نے سیکولرازم اور ہندوتوا کو ایک جیسا قرار دینے کو غلط ٹھہرایا اور مسلم سماج میں پائے جانے والے مختلف نقطہ ہائے نظر کو ملحوظ رکھنے پر زور دیا ہے۔
دوسری جانب استنبول کی ابن خلدون یونیورسٹی کے پروفیسر آف انتھروپولوجی عرفان احمد نے پارلیمنٹ میں مسلمانوں کی گھٹتی نمائندگی کو ہندوستانی جمہوریت کے ڈھانچہ جاتی ضعف کی علامت قرار دیا ہے۔
علاوہ ازیں "دی ٹیلی گراف” اور "دی پرنٹ” جیسے ذرائع ابلاغ میں شائع تجزیوں میں اقلیتی حقوق، عدلیہ کے کردار اور مسلم کارکنوں کی طویل حراست پر اختلافِ رائے کو نمایاں کیا گیا ہے، جن میں شرجیل امام اور عمر خالد کے نام بھی شامل ہیں۔
ان تمام پیش رفتوں نے عدلیہ کی آزادی، قانون کی حکمرانی اور ہندوستانی مسلمانوں کے شہری حقوق کے مستقبل سے متعلق سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
مجموعی طور پر یہ اختلافات ظاہر کرتے ہیں کہ ہندوستانی مسلمانوں کا مسئلہ محض سیاسی اختلافات یا انتخابی مسابقت تک محدود نہیں، بلکہ شہریوں کی مساوات کو یقینی بنانے، مذہبی تکثیریت کے تحفظ اور آئین کے غیر جانبدارانہ نفاذ سے جڑا ہوا ہے۔ یہی مسئلہ اس ملک کے جمہوری اور سیکولر ہونے کے دعوے کو پرکھنے کا اہم پیمانہ بن سکتا ہے۔




