دنیا

اسلامی حجاب سرکاری دستاویزات کی تصویر اور چہرے کی شناخت میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے: موزمبیق کے قانونی ماہر

موزمبیق کے قانونی ماہر کی اس بات پر تاکید کہ اسلامی حجاب سرکاری دستاویزات کی تصویر کشی اور چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی سے متصادم نہیں ہے

موزمبیق کے قانونی ماہر خورخے ساتاکا نے اعلان کیا کہ اسلامی حجاب کا استعمال بائیومیٹرک ڈیٹا جمع کرنے کے قانونی و فنی تقاضوں یا شناختی کارڈز کے اجرا میں چہرے کی شناخت کے عمل سے کسی طرح متصادم نہیں ہے۔

انہوں نے موزمبیق کے شہری رجسٹریشن قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے وضاحت کی کہ بال اور کان چہرے کی شناخت کے لئے ضروری عناصر میں شمار نہیں ہوتے، اور ان کے ظاہر کرنے کا مطالبہ محض ایک غلط انتظامی طریقہ کار ہے جس کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے۔

خبری ویب سائٹ "مسلمز اراؤنڈ دی ورلڈ” کی رپورٹ کے مطابق، یہ قانونی بیانات موزمبیق کی اسلامی کونسل کے شعبہ خواتین کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیگیری اور اس ملک کی وزارت تعلیم کی جانب سے حجاب کے جواز پر مبنی سرکلر کے اجرا کے بعد سامنے آئے ہیں۔

قانون دان اس بات پر زور دیتے ہیں کہ آئین کے مطابق، مسلمان خواتین کو حجاب کے ساتھ تصویر کے اندراج سے روکے جانے کی صورت میں قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button