
کشمیر کی معروف شیعہ سیاسی شخصیت اور رکن پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی نے بڈگام میں ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس اور پارلیمنٹ کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا اور پارٹی کے ساتھ 25 سالہ وابستگی ختم کردی۔
انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور نیشنل کانفرنس کی قیادت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے عمر عبداللہ کو ’’نااہل اور بے شرم‘‘ قرار دیا۔ آغا سید روح اللہ نے اپنا استعفیٰ 2010 میں جاں بحق ہونے والے طالب علم طفیل متو کے والد محمد اشرف متو کے حوالے کیا تاکہ وہ اسے پارٹی صدر فاروق عبداللہ تک پہنچائیں۔
انہوں نے نئی سیاسی جماعت تشکیل دینے کا عندیہ بھی دیا اور دفعہ 370 کی منسوخی کے خلاف قرارداد کو مرکزی قیادت کے سامنے پیش نہ کرنے پر عمر عبداللہ سے سوال کیا۔




