ایشیاء

میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف منظم نفرت انگیز مہم میں اضافہ، آن لائن اور زمینی سطح پر قانونی و مذہبی دباؤ میں شدت

میانمار کے سوشل میڈیا پر روہنگیا مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزی اور گمراہ کن معلومات پھیلانے کی ایک نئی لہر اٹھی ہے، جس کا مقصد ان کی شناخت سے انکار، شہری حقوق کی پامالی اور عبادت گاہوں کو محدود کرنا ہے۔ یہ سلسلہ نہایت تشویش ناک رخ اختیار کر چکا ہے۔

ہمارے ساتھی کی رپورٹ، جنھوں نے اس موضوع کا جائزہ لیا ہے، ملاحظہ فرمائیں:

میانمار میں بحران اور جھڑپوں کے تسلسل کے ساتھ ساتھ مذہبی اقلیتوں، بالخصوص روہنگیا مسلمانوں پر ساختیاتی دباؤ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔

یہ دباؤ زمینی حالات کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی بڑے پیمانے پر دکھائی دے رہا ہے، جہاں مسلمانوں کے متعدد طبقات کو اجتماعی الزام تراشی، بدنام کرنے کی مہمات اور بنیادی حقوق سے محرومی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اسی دوران انتہا پسند قوم پرست گروہ اس زہر آلود ماحول کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عبادت گاہوں کو بند کرانے اور مساجد کی تعمیرِ نو میں رخنہ ڈالنے کی کوششیں تیز کر چکے ہیں۔

«برما ہیومن رائٹس نیٹ ورک (BHRN)» کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق صرف ایک مہینے کے دوران فیس بک، ٹیلی گرام اور ٹک ٹاک پر روہنگیا مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات اور گمراہ کن مواد کے 100 معاملات درج کیے گئے ہیں۔

رپورٹ میں زور دے کر کہا گیا ہے کہ اسلام دشمن بیانیہ اب براہِ راست توہین سے آگے بڑھ چکا ہے اور اس نے شہری و مذہبی حقوق پر پابندیوں کی کھلی وکالت، قومی شناخت سے انکار اور مسلمانوں کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دینے کی شکل اختیار کر لی ہے۔

نیز «وصل نیوز ویب سائٹ» کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق مختلف اکاؤنٹس اور چینلوں کی نگرانی سے پتا چلتا ہے کہ اس مواد کا بیشتر حصہ روہنگیا مسلمانوں کو «غیر قانونی تارکینِ وطن» کہتا ہے اور انھیں اجتماعی طور پر مجرمانہ سرگرمیوں کا مرتکب ٹھہراتا ہے۔

ان مہمات میں مسلسل اس مذہبی اقلیت کو ملک بدر کرنے اور ان کے جائیداد رکھنے پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

مزید برآں، «برما ہیومن رائٹس نیٹ ورک (BHRN)» کی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا پر یہ اشتعال انگیزی براہِ راست زمینی کارروائیوں سے جڑی ہوئی ہے؛ چنانچہ شدت پسند قوم پرست تحریک «ما با تھا» (Ma Ba Tha) سے وابستہ بھکشو اس ماحول کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مقامی حکام پر مساجد کی جانچ پڑتال، ان پر پابندیاں لگانے اور انھیں بند کرانے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔

ان مہمات کا راکھین ریاست میں بگڑتے ہوئے حالات کے ساتھ ساتھ چلنا، میانمار کے مسلمانوں کی جان اور بنیادی حقوق کے لیے سنگین اور بڑھتے ہوئے خطرات کا سبب بن گیا ہے۔

بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں نے بھی ان رجحانات کے نتائج پر خبردار کیا ہے اور نفرت کو فروغ دینے والے ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کے خلاف کارروائی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button