
اکتیس اکتوبر کو دنیا بھر میں "عالمی یومِ بچت” منایا جاتا ہے۔
یہ سالانہ دن مالی وسائل کے نظم کی اہمیت کے بارے میں عوامی آگہی بڑھانے، بچت کی ثقافت کو فروغ دینے اور افراد و معاشرے کے معاشی استحکام کو یقینی بنانے میں اس کے کردار کو اجاگر کرنے کے لیے منایا جاتا ہے۔
ہماری ساتھی نے اس موضوع پر اپنی رپورٹ میں جائزہ لیا ہے، آئیے ساتھ دیکھتے ہیں:
عالمی یومِ بچت کی بنیاد پہلی بار 1924ء میں اٹلی کے شہر میلان میں بچت بینکوں کی پہلی بین الاقوامی کانگریس کے دوران رکھی گئی۔ اس دن کے مقرر کیے جانے کا مقصد عوامی توجہ کو مالی نظم، دور اندیشی اور مال و دولت کے اسراف سے بچاؤ کی اہمیت کی جانب مبذول کرانا تھا۔ ایک صدی سے زائد گزرنے کے بعد بھی یہ دن مالی شعور کی تعلیم اور معاشروں کو سوچے سمجھے معاشی رویّے اپنانے کی ترغیب کا پلیٹ فارم مانا جاتا ہے۔
آج کی دنیا میں، جو معاشی اتار چڑھاؤ، منڈی کی بے یقینی اور مہنگائی سے دوچار ہے، اثاثوں کا درست نظم خاندانوں کے استحکام کے بنیادی ستونوں میں شمار ہوتا ہے۔ ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ بچت صرف آمدنی کا ایک حصہ الگ رکھ دینے کا نام نہیں، بلکہ یہ مالی نظم و ضبط، بامقصد منصوبہ بندی اور غیر متوقع اخراجات اور ناگہانی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے قابلِ اعتماد جمع پونجی تیار کرنے کا ایک دانشمندانہ عمل ہے۔ بچپن ہی سے مالی نظم کی تعلیم اور نئی نسل کو بچت کے اصولوں سے روشناس کرانا معاشرے کے معاشی استحکام کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
انفرادی اور خاندانی پہلوؤں کے علاوہ شہریوں کی چھوٹی چھوٹی بچتیں ملکوں کی مجموعی معیشت پر بھی براہِ راست اثر ڈالتی ہیں۔ بینک ڈپازٹس اور پیداواری سرمایہ کاری کی شکل میں بچتوں کا اجتماع تعمیراتی، صنعتی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی مالی معاونت میں معاون بنتا ہے اور معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرتا ہے۔ اسی لیے دنیا بھر کے مالی اور تعلیمی ادارے 31 اکتوبر کو ورکشاپس، آگہی مہمات اور خصوصی پروگراموں کے انعقاد کے ذریعے بچت کی ثقافت کے فروغ اور معاشرے کے مالی شعور کی بہتری کو اپنی ترجیحات میں شامل کرتے ہیں۔
اسلامی تعلیمات میں بھی مالی نظم اور اسراف سے پرہیز کو خاص مقام حاصل ہے۔ قرآنِ کریم نے اعتدال کا حکم دے کر زیادہ روی اور تبذیر سے منع فرمایا ہے اور خرچ میں نظم و ضبط کو مومنین کے شایانِ شان قرار دیا ہے۔ اسی طرح اہلِ بیت علیہم السلام کی روایات میں "تقدیرِ معیشت” یعنی زندگی میں تدبیر پر تاکید کی گئی ہے؛ چنانچہ امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام نے قناعت اور میانہ روی کو نعمت کے باقی رہنے اور زمانے کی سختیوں کے مقابل انسان کی عزت کی حفاظت کا سبب بتایا ہے۔
فارسی زبان میں "تقدیرِ معیشت” کے معنی "زندگی میں تدبیر”، "زندگی میں مالی و معاشی منصوبہ بندی” یا "خرچ اور گزر بسر میں اندازہ و اعتدال قائم رکھنا” ہیں۔ اسلامی ثقافت اور اہلِ بیت علیہم السلام کی روایات میں یہ تعبیر ٹھیک ٹھیک اخراجات کے دانشمندانہ نظم، آمدن و خرچ کے درمیان توازن برقرار رکھنے اور مالی بے ترتیبی سے پرہیز کے مفہوم کی طرف اشارہ کرتی ہے۔




