اسرائیلی فورسز نے الخلیل میں فلسطینیوں کے گھر مسمار کر دیے، مغربی کنارے میں فوجی کارروائی سے 3 ہزار سے زائد افراد بے گھر
اسرائیلی فورسز نے الخلیل میں فلسطینیوں کے گھر مسمار کر دیے، مغربی کنارے میں فوجی کارروائی سے 3 ہزار سے زائد افراد بے گھر
اسرائیلی فورسز نے چیک پوائنٹ پر دو اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک کرنے کے الزام میں دو فلسطینیوں کے گھر مسمار کر دیے۔ یہ کارروائی مقبوضہ مغربی کنارے میں جاری اس وسیع فوجی آپریشن کا حصہ ہے جس کے نتیجے میں مقامی حکام کے مطابق 3 ہزار سے زائد فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں۔
گھروں کی مسماری 23 اکتوبر کے اس حملے کے بعد عمل میں آئی جس میں دونوں حملہ آور مارے گئے تھے۔ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے چیک پوائنٹ کے اطراف کے علاقوں میں بڑے پیمانے پر آپریشن کا حکم دیا تھا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس مہم کا مقصد آئندہ حملوں کی روک تھام ہے، جبکہ فلسطینی حکام نے نیتن یاہو پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ سکیورٹی صورتحال کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
اسرائیلی فورسز نے گھروں کے علاوہ دکانوں، سڑکوں اور کارخانوں کو بھی منہدم کیا ہے، جبکہ الخلیل کے بیشتر داخلی راستے بند کر دیے گئے ہیں، جس سے شہریوں کی نقل و حرکت محدود ہو گئی ہے اور مریضوں کو طبی سہولیات تک رسائی میں بھی دشواری کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے خبردار کیا ہے کہ بڑے پیمانے پر نقل مکانی طاقت کے استعمال کی ضرورت اور تناسب سے متعلق سنگین سوالات اٹھاتی ہے، جبکہ پورے پورے محلے خالی کرانے کی دھمکیاں نسلی تطہیر کے خدشات کو جنم دے سکتی ہیں۔
دوسری جانب زیتون کی کٹائی کے موسم میں آبادکاروں کے تشدد کی اطلاعات بدستور سامنے آ رہی ہیں۔ اسرائیلی حقوق گروپ "یش دین” کے مطابق 23 اکتوبر تک زیتون کی کٹائی کو متاثر کرنے والے کم از کم 135 جسمانی حملے ریکارڈ کیے گئے، جو مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف تشدد میں مجموعی اضافے کا حصہ ہیں۔




