ملائیشیا کا 2050 تک 1,25,000 ماہر حفاظِ قرآن تیار کرنے کا ہدف

ملائیشیا نے 2050 تک 1,25,000 ماہر حفاظِ قرآن تیار کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جس کے لیے اعلیٰ تعلیم، فنی و پیشہ ورانہ تربیت اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی کو وسعت دی جائے گی۔ اس کا اعلان نائب وزیراعظم احمد زاہد حمیدی نے ملاکا میں حفظِ قرآن کی تقریبِ تکمیل سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اولو الالباب پروگرام کی تقریب سے خطاب میں زاہد حمیدی نے بتایا کہ ملائیشیا اب تک تقریباً 12,500 ماہر حفاظِ قرآن تیار کر چکا ہے۔ 2027 سے طلبہ یونیورسٹی کوالالمپور (یونی کے ایل) اور ملائیشین ٹیکنیکل یونیورسٹی نیٹ ورک (ایم ٹی یو این) کی چھ یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکیں گے۔
اس منصوبے کا مقصد قرآنی تعلیم کو پیشہ ورانہ مہارتوں اور نئے شعبوں، بشمول مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور ڈیجیٹل معیشت، سے جوڑنا ہے۔ زاہد حمیدی نے زور دے کر کہا کہ حفظِ قرآن کے مدارس کو اسلامی اقدار کے تحفظ کے ساتھ ساتھ طلبہ میں سائنسی، تکنیکی اور قائدانہ صلاحیتیں پیدا کرنی چاہئیں۔
یہ منصوبہ ملائیشیا کے قومی تبدیلی وژن 2050 کا حصہ ہے، جس کا مقصد حفاظِ قرآن کو اسٹریٹجک صنعتوں میں روزگار کے لیے تیار کرنا اور سماج و مذہبی زندگی میں ان کے کردار کو مضبوط بنانا ہے




