امام حسن و امام حسین علیہما السلام کو "ابن رسول اللہ" کہا جانا ایک خصوصی استثنا ہے، جو قرآنی بنیاد اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کے ارشاد پر مبنی ہے : آیت اللہ العظمیٰ شیرازی

آیت اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی کی روزانہ علمی نشست منگل 15 جمادی الاول 1448 ہجری کو منعقد ہوئی۔
آیت اللہ العظمیٰ شیرازی نے انسانی نسلوں کی نسبت کی کیفیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: عام روش کے برخلاف، جس میں نسل بیٹے کے ذریعے آگے بڑھتی ہے، پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کی ذریت کا تسلسل خصوصی طور پر حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے ذریعے ہے، جو ایک خاص الٰہی استثنا ہے۔
معظم لہ نے "ذریت” اور "ابن” کے فرق کی وضاحت کرتے ہوئے یاد دلایا: قرآن کریم میں دیگر مقامات پر بیٹی کی اولاد (جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام) پر "ذریت” کا اطلاق ہوا ہے، لیکن عربوں کے عرف میں بیٹی کی اولاد پر "ابن” کا اطلاق رائج نہیں تھا، اور یہ تعبیر امام حسن و امام حسین علیہما السلام کے لیے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کے ساتھ مخصوص ہے۔
انہوں نے آیۂ مباہلہ میں لفظ "وَأَبْنَاءَنَا” اور متواتر روایات سے استدلال کرتے ہوئے فرمایا: پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے صراحت فرمائی تھی کہ میرے ابناء اور میری ذریت میری بیٹی کے ذریعے ہیں؛ لہٰذا "ابن رسول اللہ” کی تعبیر حقیقی ہے اور ایک شرعی استثنا ہے، جس کا اطلاق ان حضرات کے علاوہ کسی اور بیٹی کی اولاد پر نہیں ہوتا




