برطانوی پارلیمنٹ نے مساجد کی سیکورٹی کے تحفظاتی پروگرام میں خامیوں کی تحقیقات شروع کر دی
برطانوی پارلیمنٹ نے مساجد کی سیکورٹی کے تحفظاتی پروگرام میں خامیوں کی تحقیقات شروع کر دی
برطانوی پارلیمنٹ نے مساجد، اسلامی مراکز اور مذہبی مدارس کو نفرت پر مبنی جرائم سے تحفظ فراہم کرنے والے سرکاری پروگرام کی خامیوں کی جانچ شروع کر دی ہے۔ یہ تحقیقات ایسی رپورٹوں کے بعد شروع کی گئی ہیں جن میں سیکورٹی امداد کی فراہمی میں تاخیر اور مسلم اداروں کو فنڈ کی تقسیم میں شفافیت کی کمی کی نشاندہی کی گئی تھی۔
کل جماعتی پارلیمانی گروپ نے مقامی اسلامی اداروں سے شواہد اور بیانات جمع کرنے کا کام شروع کر دیا ہے، تاکہ موجودہ تحفظاتی اقدامات کی افادیت کا جائزہ لیا جا سکے اور ان رکاوٹوں کی نشاندہی کی جا سکے جو مساجد کو سرکاری مدد تک رسائی سے روک رہی ہیں۔ گروپ نے مساجد اور اسلامی مراکز سے اپنے سیکورٹی خدشات اور فنڈنگ پروگرام کے تجربات تحریری طور پر پیش کرنے کی اپیل کی ہے، جس کی آخری تاریخ 22 نومبر مقرر کی گئی ہے۔
برطانوی وزارتِ داخلہ (ہوم آفس) ہر سال نفرت پر مبنی جرائم سے اداروں کے تحفظ کے پروگراموں کے لیے 4 کروڑ پاؤنڈ تک مختص کرتی ہے۔ تاہم رپورٹوں کے مطابق بعض مسلم اداروں کو اپنی درخواستوں پر فیصلے کے لیے دو سال تک انتظار کرنا پڑا، جبکہ بعض کی درخواستیں بغیر کسی معقول وضاحت کے مسترد کر دی گئیں۔ برطانوی رکنِ پارلیمنٹ اینڈریو پیکس نے کہا کہ درخواست کے غیر واضح طریقۂ کار اور اہلیت کے مبہم معیارات کے سبب مساجد کو سیکورٹی فنڈ کے حصول میں دشواریوں کا سامنا ہے۔
بیرونس سعیدہ وارثی نے کہا کہ اس تحقیقات کا مقصد سرکاری پروگرام کا جائزہ لینا، اس کی کمزوریوں کی نشاندہی کرنا اور مسلمانوں اور مذہبی اداروں میں عبادت گزاروں کے تحفظ کے مؤثر طریقے تلاش کرنا ہے۔




