
24 اکتوبر کو یومِ ترقیِ اطلاعات کے طور پر منایا جانا عالمی برادری کو اطلاعاتی عدم مساوات، ترقی کے فرق کو کم کرنے میں جدید ٹیکنالوجی کے کردار اور علم تک رسائی میں ہمہ گیر انصاف کے لیے بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے کی ضرورت کی طرف توجہ دلانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔اس سلسلے میں ہمارے ساتھی کی رپورٹ پر توجہ فرمائیں:
۲۴ اکتوبر یومِ ترقیِ اطلاعات ہے۔ یہ دن ۱۹۷۲ میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے مقرر کیا تھا تاکہ معاشی و سماجی مسائل کے حل میں اطلاعات کے تبادلے اور ذرائع ابلاغ کے استعمال کی اہمیت اجاگر کی جا سکے۔اس دن کا مقصد رائے عامہ کو بیدار کرنا اور حکومتوں کو ترقی پذیر ممالک کی ضروریات کی طرف متوجہ کرنا تھا، تاکہ علمی صلاحیتیں اور جدت پر مبنی بنیادی ڈھانچہ سب کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کا ذریعہ بن سکے۔
اس موقع کے ابتدائی مقاصد کے مطابق متوازن اور پائیدار ترقی کے حصول کے لیے ٹیکنالوجی کی منصفانہ تقسیم اور بڑی طاقتوں کی اجارہ داری کے بغیر تمام اقوام کے درمیان علم کے آزادانہ بہاؤ کو آسان بنانا ضروری ہے۔«گارجین» (The Guardian) نے «ورلڈ اکنامک فورم» (WEF) کے حوالے سے لکھا ہے کہ مواصلات کے شعبے میں نمایاں پیش رفت کے باوجود ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان ڈیجیٹل خلیج منصفانہ نمو کی راہ میں اب بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے
بین الاقوامی مبصرین زور دیتے ہیں کہ کلیدی ٹیکنالوجیوں پر اجارہ داری اور فنی علم کی غیر منصفانہ منتقلی نے معاشی و سماجی عدم مساوات کی نئی شکلوں کو ہوا دی ہے۔خبر رساں نیٹ ورک «یورونیوز» (Euronews) میں شائع جائزوں کے مطابق اطلاعات کے بہاؤ کا بامقصد استعمال غربت کے خاتمے، عمومی تعلیم کے فروغ اور مساوی مواقع کی فراہمی کا ایک مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔ماہرین کا ماننا ہے کہ اطلاعاتی ترقی کے تسلسل کے لیے پیشہ ورانہ اخلاقیات کی پابندی، میڈیا میں شفافیت اور علم کو سیاسی یا معاشی غلبے کا آلہ بننے سے روکنا لازمی ہے۔
اسی بنا پر قرآنِ کریم اور روایاتِ اہلِ بیت علیہم السلام نے ترقی کے جدید تصورات کے وجود میں آنے سے صدیوں پہلے علم کے حصول اور آگہی کی اشاعت کو فرد کی نشوونما اور انسان دوست معاشروں کی بنیاد قرار دیا تھا۔چنانچہ قرآنِ کریم کی سورۂ زمر آیت ۹ میں عالموں اور جاہلوں کے برابر نہ ہونے پر زور دیا گیا ہے: «هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ»، «کیا وہ لوگ جو جانتے ہیں اور وہ جو نہیں جانتے، برابر ہو سکتے ہیں؟» اور علم کی زکات اس کی نشر و اشاعت اور دوسروں کو تعلیم دینا بتائی گئی ہے۔امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کی سیرت میں بھی آگہی اور حکمت کو جہالت سے نجات اور عدل کے قیام کا بنیادی سرمایہ مانا گیا ہے۔ یہ وہ بلند اصول ہے جو حقیقی ترقی کو اطلاعات کے یک طرفہ ذخیرے میں نہیں بلکہ علم کو بنی نوعِ انسان کی خدمت اور انسانی کرامت کی سربلندی کے لیے بروئے کار لانے میں دیکھتا ہے۔




