آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی کی ماسکو کے شیعہ علما کی جانب سے شدید مذمت
آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی کی ماسکو کے شیعہ علما کی جانب سے شدید مذمت
ماسکو میں آذری نژاد شیعہ علما اور دینی کارکنان کا ایک اہم اجلاس باکو حکومت کے اس نئے فیصلے کے خلاف شدید احتجاج کا پلیٹ فارم بن گیا جس کے تحت آذربائیجان کے اسکولوں میں اسلامی لباس پر پابندی لگائی گئی ہے۔
اجلاس کے شرکا نے اس اقدام کو مذہبی آزادی کی کھلی خلاف ورزی اور مسلم طالبات کو تعلیم کے بنیادی حق سے محروم کرنے کے مترادف قرار دیا۔
روس کے خبر رساں نیٹ ورک «اسپوتنک» کے مطابق شرکائے اجلاس نے اعلانِ عالمی برائے انسانی حقوق کی دفعہ ۱۸ اور آذربائیجان کے آئین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیکولرزم کا مطلب مذہبی عقائد کے معاملے میں ریاست کی غیر جانبداری ہے، نہ کہ عوامی دائرے سے مذہبی علامتوں کا خاتمہ۔ خاص طور پر اس لیے بھی کہ یہ پابندیاں ایسے وقت میں مسلم طالبات پر مسلط کی جا رہی ہیں جب دیگر مذہبی اقلیتوں کو تعلیمی ماحول میں اپنی مذہبی علامتیں استعمال کرنے کی آزادی حاصل ہے۔
اجلاس کے شرکا نے عالمِ اسلام کی رائے عامہ کی ہمدردی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان پابندیوں کے خلاف بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں اور اسلامی برادریوں سے زیادہ واضح موقف اختیار کرنے کا مطالبہ کیا۔
واضح رہے کہ یہ اشرافیائی احتجاج ایسے حالات میں سامنے آیا ہے جب خود آذربائیجان کے اندر بھی بے چینی اور تنقید کی لہر تیز ہو گئی ہے اور سرکاری رپورٹوں کے مطابق حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاج کے سلسلے میں اب تک درجنوں افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔




