امریکہ

قرآن کے حوالے سے مسلمانوں کے دفاع پر کلنٹن کے بیان کا وسیع ردعمل

سابق امریکی صدر بل کلنٹن کے ایک بین المذاہب اجتماع میں سورۂ حجرات کی آیت ۱۳ کا حوالہ دینے پر سوشل میڈیا اور مجازی دنیا میں طرح طرح کے تجزیوں اور تبصروں کی لہر دوڑ گئی ہے۔

خبر رساں ادارہ الجزیرہ کے مطابق سوشل میڈیا کے متعدد صارفین نے ان کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے زور دیا کہ مذکورہ آیت، جس میں انسانوں کی ایک مرد و عورت سے تخلیق اور تعارفِ باہمی کے لیے انہیں مختلف قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیے جانے کا ذکر ہے، انسانوں کی برابری، نسل پرستی کی مذمت اور نسلی برتری کی نفی کی روشن دلیل ہے۔

بعض مذہبی تجزیہ کاروں نے بھی متنبہ کیا کہ حکومتوں سے سیاسی اختلافات کو دینی عقائد سے دشمنی میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اس سے صرف ناانصافی اور توہینِ اسلام کو فروغ ملتا ہے۔

اس کے برعکس بعض صارفین نے تنقیدی نظر سے ان بیانات کو اخلاقی رویے سے زیادہ اقلیتوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ڈیموکریٹس کی حزبی تشہیر کا ایک ذریعہ قرار دیا۔

قابلِ ذکر ہے کہ بل کلنٹن نے اس تقریب میں اسلاموفوبیا کی لہر اور مسلمانوں کی شبیہ بگاڑے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی بیٹی چیلسی کلنٹن نے انہیں قرآنِ کریم کے مطالعے کی ترغیب دی تھی، اور یاد دلایا کہ مختلف اقوام کی تخلیق حکمتِ الٰہی کے تحت ہے تاکہ ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہا جائے اور باہم سیکھا جائے۔

یہ بھی بتاتے چلیں کہ چیلسی کلنٹن کی اسلام کو سمجھنے سے دلچسپی ان کی نوجوانی کے زمانے سے ہے، جب انہوں نے ۱۵ برس کی عمر میں قرآنِ کریم کا مطالعہ کر کے اپنے والد کو بھی اس آسمانی کتاب کے مطالعے اور اسلامی تعلیمات سے واقفیت کی ترغیب دی تھی۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button