آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے تشویشناک اثرات؛ طالبات کی تعلیم سے محرومی برقرار، شہری حقوق کے لیے نئے چیلنجز
آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے تشویشناک اثرات؛ طالبات کی تعلیم سے محرومی برقرار، شہری حقوق کے لیے نئے چیلنجز
آذربائیجان میں جاری کی گئی نئی انتظامی ہدایات کے نتیجے میں باحجاب طالبات اور اساتذہ کے تعلیمی اداروں میں داخلے پر روک لگ گئی ہے۔ اس سے سماجی بے چینی پھیلی اور احتجاج کرنے والوں کی گرفتاریاں عمل میں آئیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ سڑکوں پر احتجاج کو دبا دینا مسئلے کا بنیادی حل نہیں ہے۔
اس موضوع پر ہمارے ساتھی کی تیار کردہ رپورٹ ملاحظہ فرمائیں:
آذربائیجان میں عمومی تعلیم کے قوانین میں ترمیم اور کابینہ کے حالیہ فیصلوں سے خاندانوں میں نئی کشیدگی اور تشویش پیدا ہو گئی ہے۔
اگرچہ ان ضوابط کے سرکاری متن میں صرف سیکولر اصولوں کی پاسداری اور یکساں لباس پر زور دیا گیا ہے، لیکن عملاً اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ باحجاب طالبات کو کلاسوں میں داخلے سے روکا جا رہا ہے اور خاتون اساتذہ کو انتباہی نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔
اس سخت گیر رویے نے حقِ تعلیم، آزادیٔ ضمیر اور موجودہ قوانین کے درمیان واضح تضاد پیدا کر دیا ہے اور شہریوں کی ایک بڑی تعداد کا تعلیمی و پیشہ ورانہ مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔
ویب سائٹ «دی کنورسیشن» (The Conversation) نے بین الاقوامی تنظیم «ایمنسٹی انٹرنیشنل» (Amnesty International) کے حوالے سے خبر دی ہے کہ باحجاب طالبات کو تعلیم سے محروم کرنے اور احتجاجیوں کی گرفتاری پر سخت تنقید کی گئی ہے۔ تنظیم نے ان پابندیوں کو فوری طور پر ختم کرنے اور گرفتار شدگان کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ماضی کے برعکس، اس بار احتجاج صرف مذہبی تنظیموں تک محدود نہیں رہا۔ سماج کے مختلف طبقات، بشمول سماجی کارکنان اور غیر مذہبی شخصیات، نے بھی حقِ تعلیم اور لباس کے انتخاب کی آزادی کے دفاع میں اس رویے کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔
حقِ تعلیم اور لباس کے انتخاب کی آزادی انسانی حقوق اور بین الاقوامی اصولوں کے بنیادی ستون مانے جاتے ہیں۔
ذاتی یا مذہبی عقائد کی پابندی کی بنا پر کسی کو تعلیم سے محروم کرنا تعلیم میں عدم امتیاز سے متعلق بین الاقوامی معاہدوں کے منافی ہے، اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے احترام کا تقاضا ہے کہ حصولِ علم کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔
آن لائن جریدہ «قفقازسکی اوزل» (Kavkazsky Uzel) کے مطابق آذربائیجان کے ممتاز سیاسی تجزیہ کار زرتشت علی زادہ نے لباس سے متعلق پابندیوں میں سختی کو باکو حکومت کی اس پالیسی کا حصہ قرار دیا ہے جس کا مقصد معاشرے پر کنٹرول بڑھانا اور آزاد سماجی گروہوں کو دبانا ہے۔
اسی طرح خبر رساں ادارے «اے پی اے» (APA) کے مطابق علاقائی ردعمل میں اس مسئلے کے پُرامن حل، کشیدگی سے گریز اور شہریوں کے حقوق کا احترام کرتے ہوئے اندرونِ ملک مفاہمت پر زور دیا گیا ہے۔




