اسلامی دنیاتاریخ اسلام

جنگِ جمل: عہد شکنی، فتنہ انگیزی اور خروج سے برائت کی ضرورت

۱۰ جمادی الاول ۳۶ ہجری قمری جنگِ جمل کے عظیم فتنے کی یاد دلاتی ہے؛ وہ جنگ جو رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ کی زوجہ عائشہ نے، خلیفۂ برحق اور امامِ وقت امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے خلاف بصرہ میں بھڑکای تھی ۔

عائشہ نے گھر سے نکلنے کی بابت قرآنِ کریم کی صریح ممانعت اور رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ کی پیشگی تنبیہات کے باوجود، پیمان شکنوں کے لشکر کی روحانی و تبلیغاتی قیادت سنبھالی اور اونٹ پر سوار ہو کر مسلمانوں کی صفوں میں پھوٹ اور خونریزی ڈالی۔

مسلّم تاریخی حقائق اور مکتبِ اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات کی روشنی میں، مسلمانوں کے درمیان پہلی خانہ جنگی برپا کرنا، سیرتِ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ کی تحریف اور ولایتِ مطلقۂ الٰہی کی کھلی مخالفت تھی۔

اس جنگ میں طلحہ و زبیر نے جاہ طلبی اور عہد شکنی کے سبب عائشہ کے ساتھ مل کر ناکثین کے لشکر کی فوجی کمان سنبھالی اور جنگِ جمل کے ذریعے امامِ وقت امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے خلاف پہلے مسلح خروج کی بنیاد رکھی۔

ایسی جنگ کی آگ بھڑکانا جس کا نتیجہ ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کی شہادت کی صورت میں نکلا، ناقابلِ معافی جرم اور امامِ مفترض الطاعہ کے خلاف صریح خروج شمار ہوتا ہے۔

اس عہد شکنی، فتنہ انگیزی اور احکامِ الٰہی کو پامال کرنے سے برائت کا موقف، ولایت کی معرفت اور تاریخ بھر میں اہلِ بیت علیہم السلام کے دشمنوں اور ان سے جنگ کرنے والوں سے تبرا میں حق و باطل کی حدِ فاصل ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button