خبریںدنیا

آذربائیجان–آرمینیا امن عمل کا او آئی سی کی جانب سے خیر مقدم

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی کونسلِ وزرائے خارجہ نے اپنے سالانہ اجلاس کے اختتامی اعلامیے میں جمہوریہ آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان پائیدار امن کی جانب اٹھائے گئے مثبت قدموں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے قانونی رکاوٹوں کو جلد از جلد دور کرنے اور جنوبی قفقاز میں امن و استحکام کو مضبوط کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس سلسلے میں رپورٹ:

اسلامی ممالک کی بھرپور حمایت کے ساتھ جنوبی قفقاز میں پائیدار امن اور علاقائی استحکام کا سفر ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔
دہائیوں پر محیط سرحدی کشیدگی کے خاتمے اور ہمہ گیر امن کے قیام کی جاری سفارتی کوششوں کے دائرے میں، اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے حالیہ اجلاس نے باکو اور یریوان کے درمیان اس تاریخی صلح کو آگے بڑھانے پر خاص توجہ مرکوز کی ہے۔
اس خطّے میں پائیدار امن کا قیام تمام ہمسایہ معاشروں کے لیے ایک محفوظ ماحول، معاشی ترقی اور پُرامن بقائے باہمی کی خاطر نہایت اہمیت رکھتا ہے۔
علاوہ ازیں، فریقین کے درمیان ایک معتبر قانونی ڈھانچے کی تشکیل سے ہمسایہ ممالک کے مابین کثیر جہتی ترسیلی (ٹرانزٹ) تعاون کی توسیع اور تجارتی و ثقافتی روابط کے استحکام کی راہ مزید ہموار ہو جائے گی۔
روزنامہ «الشرق الاوسط» (Asharq Al-Awsat) کی رپورٹ کے مطابق، او آئی سی کی کونسلِ وزرائے خارجہ نے بغداد کی میزبانی میں منعقدہ اپنے باونویں اجلاس کے اختتامی اعلامیے میں امن معاہدے کے ابتدائی متن پر پاراف (ابتدائی دستخط) ہونے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے علاقائی امن کے استحکام کے لیے ایک کلیدی پیش رفت قرار دیا ہے، اور آرمینیا کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ معاہدۂ صلح پر حتمی دستخط کی راہ میں جو قانونی اور سیاسی رکاوٹیں باقی ہیں انھیں دور کرے۔
اسی دستاویز میں جنگ سے متاثرہ علاقوں کی تعمیرِ نو اور وہاں بچی ہوئی بارودی سرنگوں کی صفائی سے متعلق کوششوں کی حمایت پر بھی زور دیا گیا ہے تاکہ امن کے عمل کو تقویت ملے۔
نیز اس اسلامی تنظیم کے رکن ممالک نے حیاتی (بنیادی) ڈھانچے کی بحالی اور بے گھر افراد کی ان کے آبائی علاقوں میں پُرامن اور پائیدار ماحول کے اندر محفوظ واپسی کے لیے فنی و مالی امداد فراہم کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
دوسری جانب، آرمینیائی فریق بھی اس سے قبل امن معاہدے پر فوری دستخط کے لیے اپنی آمادگی ظاہر کرتے ہوئے اختلافات کے پُرامن تصفیے کی ضرورت پر زور دے چکا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ پیش رفت اس حقیقت کی شاہد ہے کہ بین الاقوامی اصولوں کی پابندی اور امن کے عمل سے سچّی وابستگی ہی دشمنیوں کے خاتمے، دونوں ملکوں کی سلامتی کی ضمانت اور جنوبی قفقاز میں منصفانہ و دائمی امن کے حصول کا واحد حقیقی راستہ ہے۔
بلاشبہ، متنازع ماضی سے آگے نکل کر حسنِ ہمسائیگی پر توجہ مرکوز کرنا فعال سفارت کاری کی بنیاد بنے گا اور خطّے سے باہر کے مداخلت کاروں کے تخریبی اثر و رسوخ کو کم کرے گا۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button