دنیا

جنگ کے تسلسل سے مشرق وسطیٰ کی اقتصادی نمو میں شدید کمی کے اثرات پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا انتباہ

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے ایک نئی رپورٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں فوجی تنازعات کے طوالت اختیار کرنے اور بحری راستوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے میں خلل کے تسلسل نے خطے کی اقتصادی صلاحیتوں کو شدید متاثر کیا ہے۔

اس ادارے کے شعبہ مشرق وسطیٰ و وسطی ایشیا کے ڈائریکٹر جہاد ازعور نے اعلان کیا کہ مالی ذخائر میں کمی اور متبادل راستوں کی محدودیت نے قیمتوں کے شدید جھٹکوں اور پورے خطے میں معاشی کساد بازاری کے خطرات کو بڑھا دیا ہے۔

"ریڈیو فردا” کی رپورٹ کے مطابق، اس تنظیم نے پیش گوئی کی ہے کہ جنگ کے باعث تیل برآمد کرنے والے ممالک میں معاشی سکڑاؤ میں شدت آئے گی اور ایران میں معاشی سکڑاؤ کی شرح سال 2026 میں 7.6 فیصد تک پہنچ جائے گی۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے 2027 تک خطے میں بتدریج معاشی استحکام کی واپسی کی شرط برآمدی راستوں کے دوبارہ کھلنے اور مالی ذخائر کی بحالی کو قرار دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button