شیعہ مرجعیت

کچھ مدت کے لیے رقم جمع کرانے کے بدلے اشخاص کو قرض دینا چونکہ مورِدِ قرض کو محدود کرنا ہے، لہٰذا سود شمار نہیں ہوتا : آیت اللہ العظمیٰ شیرازی

کچھ مدت کے لیے رقم جمع کرانے کے بدلے اشخاص کو قرض دینا چونکہ مورِدِ قرض کو محدود کرنا ہے، لہٰذا سود شمار نہیں ہوتا : آیت اللہ العظمیٰ شیرازی
 
آیت اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی کی روزانہ کی علمی نشست، منگل یکم جمادی الاول 1448ھ کو منعقد ہوئی۔
آیت اللہ العظمیٰ شیرازی نے بعض قرض الحسنہ فنڈز یا بعض بینکوں کی جانب سے چند ماہ تک رقم جمع رکھنے کے عوض دیے جانے والے قرضوں کے شرعی جواز کے بارے میں فرمایا: یہ مسئلہ اختلافی ہے، اور میری نظر میں اس میں کوئی اشکال نہیں ہے اور یہ سود شمار نہیں ہوتا، کیونکہ یہاں مورِدِ قرض محدود ہو جاتا ہے، اور اسے مخصوص افراد تک محدود کر دیا جاتا ہے۔
معظم لہ نے مزید تاکید فرمائی: لہٰذا قرض کو محدود کرنا سود شمار نہیں ہوتا، لیکن اگر قرض دینے سے (قرض دینے والا) نفع حاصل کرے تو وہ سود شمار ہوگا۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button