عالمی یومِ معیار؛ قرآنی تعلیمات اور سیرتِ اہلِ بیت علیہم السلام کی روشنی میں دیانت و عدل کا معیار

ہر سال 14 اکتوبر کو منایا جانے والا عالمی یومِ معیار (World Standards Day) مصنوعات، خدمات اور صنعتی سرگرمیوں میں معیار، تحفظ اور قابلِ اعتماد اصولوں کی اہمیت اجاگر کرتا ہے۔ اس دن کی تاریخی بنیاد 14 اکتوبر 1946ء کو لندن میں منعقد ہونے والا بین الاقوامی اجلاس ہے، جس میں 25 ممالک کے 65 نمائندوں نے عالمی سطح پر معیارات کی تیاری اور ان میں ہم آہنگی کے لئے مشترکہ ادارے کے قیام پر غور کیا۔ اس کا نتیجہ بین الاقوامی ادارۂ معیار (ISO) کے قیام کی صورت میں سامنے آیا، جس نے 1947ء میں باضابطہ کام شروع کیا۔ عالمی یومِ معیار پہلی مرتبہ 1970ء میں منایا گیا۔ اس دن کا بنیادی مقصد عالمی معیارات کی اہمیت اور ان کی تیاری میں ماہرین کی خدمات کو اجاگر کرنا ہے۔
قرآنِ مجید معیار کے ساتھ دیانت، توازن اور عدل کو بھی انسانی معاملات کی بنیاد قرار دیتا ہے۔ سورۂ مطففین کی ابتدائی آیات میں ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی مذمت کی گئی ہے، جبکہ سورۂ رحمن، آیات 7 تا 9 میں میزان قائم رکھنے اور انصاف میں کمی نہ کرنے کی تاکید ہے۔ سورۂ نساء، آیت 58 امانتیں ان کے اہل تک پہنچانے اور لوگوں کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرنے کا حکم دیتی ہے۔ ان تعلیمات کی روشنی میں ملاوٹ، دھوکا، ناقص مصنوعات کو معیاری ظاہر کرنا اور صارفین کے حقوق پامال کرنا محض کاروباری بے ضابطگیاں نہیں، بلکہ اخلاقی ذمہ داریوں سے انحراف بھی ہیں۔
سیرتِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ اور تعلیماتِ اہلِ بیت علیہم السلام بھی دیانت، امانت اور انصاف کی اسی بنیاد کو مضبوط کرتی ہیں۔ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے عہدنامۂ مالک اشتر، نہج البلاغہ کے مکتوب 53، میں تاجروں، بازار اور عوامی حقوق سے متعلق اہم رہنما اصول ملتے ہیں۔ امام جعفر صادق علیہ السلام کی تعلیمات حلال کمائی اور درست معاملات کی اہمیت اجاگر کرتی ہیں، جبکہ سیرتِ امام حسین علیہ السلام حق، عدل اور اصلاحِ معاشرہ کے لئے استقامت کا درس دیتی ہے۔
آج عالمی یومِ معیار کا تقاضا ہے کہ حکومتیں اور متعلقہ ادارے مصنوعات کے معیار اور صارفین کے تحفظ کو یقینی بنائیں، صنعت کار اور تاجر دیانت کو کاروبار کا لازمی اصول بنائیں اور تعلیمی و مذہبی ادارے حقوق العباد اور اخلاقی ذمہ داریوں کے بارے میں شعور بیدار کریں۔
حقیقی معیار صرف مصنوعات، صنعت اور ٹیکنالوجی تک محدود نہیں، بلکہ کردار، معاملات اور نظامِ حکمرانی کا بھی پیمانہ ہے۔ قرآنی تعلیمات اور سیرتِ اہلِ بیت علیہم السلام کی روشنی میں حقیقی ترقی وہی ہے جس میں ناپ تول میں انصاف، کاروبار میں دیانت، حکمرانی میں عدل اور انسانی حقوق کا احترام یقینی ہو۔ یہی اقدار ایک محفوظ، قابلِ اعتماد اور ذمہ دار معاشرے کی بنیاد ہیں۔




