دنیا

جمہوریہ آذربائیجان میں اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاج کی وسیع لہر، کلاسوں کا بائیکاٹ، درجنوں مظاہرین گرفتار، ترکی تک احتجاج پھیل گیا

جمہوریہ آذربائیجان میں اسلامی حجاب پر سخت پابندیاں عائد کرنے اور با حجاب طالبات کو درسگاہوں میں داخل ہونے سے روکنے کے باعث سماجی بے چینی میں اضافہ، اساتذہ کی برطرفی اور طلباء کی تعلیم سے محرومی جیسے حالات پیدا ہو گئے ہیں۔

باکو حکومت کی جانب سے اسکول یونیفارم کو یکساں بنانے کے نئے فیصلے کے بعد بہت سی محجبہ طالبات کو کلاس میں حاضر ہونے سے محروم کر دیا گیا ہے اور وہ اسکول کے صحن میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔

اس ناروا اقدام پر ان کے ہم جماعتوں، والدین اور تعلیمی عملے کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

آذربائیجان کی خبر رساں ایجنسی "ٹرینڈ” کی رپورٹ کے مطابق سیکورٹی حکام نے حالیہ بے چینی کے دوران کم از کم 37 افراد کو گرفتار کرنے اور مظاہرین کے خلاف قانونی کارروائی شروع کرنے کی اطلاع دی ہے۔

اسی طرح آذربائیجان کے خبر رساں ایجنسی”توران” نے باکو، ماسالی اور بالاخانی سمیت مختلف علاقوں سے رپورٹ دی ہے کہ طلباء نے کلاسوں کا بائیکاٹ کر کے پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ محجبہ اساتذہ کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

ان احتجاجات کی گونج آذربائیجان کی سرحدوں سے باہر تک سنائی دینے لگی ہے۔

ترکی کے نیوز نیٹ ورک "ترکش نیوز” کی رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم "اوزگوردر” کے ارکان نے استنبول میں جمہوریہ آذربائیجان کے قونصل خانے کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کر کے آذربائیجان کی مسلمان بچیوں کے شرعی حجاب کے حق کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button