آیت اللہ العظمیٰ شیرازی: روایات کی رو سے نذر ماننا اور واجبات سے بڑھ کر تکالیف اپنے ذمے لے لینا مکروہ ہے، لیکن اگر کوئی شخص حاجت برآری کے لیے شرعی نذر مان لے تو اس پر عمل واجب ہو جاتا ہے
آیت اللہ العظمیٰ شیرازی: روایات کی رو سے نذر ماننا اور واجبات سے بڑھ کر تکالیف اپنے ذمے لے لینا مکروہ ہے، لیکن اگر کوئی شخص حاجت برآری کے لیے شرعی نذر مان لے تو اس پر عمل واجب ہو جاتا ہے
آیت اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی کی روزانہ علمی نشست بروز پیر، تیس ربیع الثانی ۱۴۴۸ ہجری کو منعقد ہوئی۔
اس نشست میں بھی، گزشتہ نشستوں کی طرح، معظم لہ نے حاضرین کے مختلف فقہی مسائل سے متعلق سوالات کے جوابات ارشاد فرمائے۔
آیت اللہ العظمیٰ شیرازی نے نذر، قسم اور ان کے وجوب کی حدود سے متعلق دریافت کیے گئے سوالات کے جواب میں ان مسائل کے شرعی و روایی ضوابط بیان فرمائے۔
معظم لہ نے نذر اور مستحب تکالیف کے اضافے کی کراہت کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: روایات کے مطابق نذر ماننا اور واجبات سے زیادہ تکالیف اپنے اوپر عائد کر لینا مکروہ ہے، کیونکہ واجبات کے سوا انسان کی گردن پر کوئی اور تکلیف نہیں ہے، اور بہتر یہی ہے کہ وہ اپنے تکالیف میں کوئی اضافہ نہ کرے۔
آپ نے مزید فرمایا: ہاں، اگر انسان نے اپنی حاجت پوری ہونے کے لیے شرعی نذر مان لی تو اس پر عمل کرنا واجب ہو جائے گا۔
آیت اللہ العظمیٰ شیرازی نے نذر اور قسم کے بعض احکام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: "قسم” کے بارے میں روایت منقول ہے، اور شاید نذر کے باب میں بھی روایت موجود ہو، کہ اس کی صحت کے لیے (زوجہ کے حق میں) شوہر کی اجازت اور (اولاد کے حق میں) باپ کی اجازت پر تاکید کی گئی ہے۔ لہٰذا بیٹے اور بیٹی کی نذر باپ کی اجازت سے اور بیوی کی نذر شوہر کی اجازت سے ہونی چاہیے۔
معظم لہ نے نذر کے صحیح اور واجب ہونے کی بنیادی شرط بیان کرتے ہوئے تاکید فرمائی: نذر اسی وقت صحیح اور واجب ہوتی ہے جب اس کا خطاب خدائے متعال سے ہو۔ چنانچہ اگر نذر غیرِ خدا کو مخاطب کر کے مانی جائے، مثلاً "یا ابوالفضل” یا "یا حسین” جیسے الفاظ کے ساتھ، تو نذر شرعی منعقد ہی نہیں ہوتی اور اس پر عمل واجب نہیں ہوگا۔




