خدائے متعال کے لے لفظِ «علّت» بمعنیٰ «سبب» کا اطلاق بلا اشکال ہے : آیت اللہ العظمیٰ شیرازی
خدائے متعال کے لے لفظِ «علّت» بمعنیٰ «سبب» کا اطلاق بلا اشکال ہے : آیت اللہ العظمیٰ شیرازی
آیت اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی کی روزانہ علمی نشست اتوار، انتیس ربیع الثانی ۱۴۴۸ھ کو منعقد ہوئی۔
اس نشست میں بھی، گزشتہ نشستوں کی طرح، معظم لہ نے حاضرینِ مجلس کے مختلف فقہی مسائل سے متعلق سوالات کے جوابات عنایت فرمائے۔
آیت اللہ العظمیٰ شیرازی نے خدائے متعال کے بارے میں لفظِ علّت و معلول کے استعمال سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ان اصطلاحات کے استعمال کے ضوابط اور حدود کی وضاحت فرمائی۔
معظم لہ نے ذاتِ باری تعالیٰ سے مفہومِ علّت کی نسبت واضح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: «اگر لفظِ علّت "سبب” کے معنیٰ میں استعمال کیا جائے تو اس کا اطلاق خدائے متعال پر کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں، کیوں کہ خدائے متعال ہی سبب ساز اور سببِ اصلی ہے۔»
آپ نے اس تعبیر کے غلط استعمال کی صورت کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: «خرابی وہاں پیدا ہوتی ہے جہاں علّت اور معلول دونوں کو مخلوق ہی کی قسم سے، اور انسانوں کے باہمی تعلقات کی مانند سمجھا اور شمار کیا جائے۔ ایسی صورت میں یہ معنیٰ خدائے متعال کی طرف منسوب کرنا درست نہیں۔ لہٰذا اس شبہے کو دور کرنے کے لیے مناسب ہے کہ علّت و معلول (مخلوقی معنیٰ میں) کی جگہ "سبب اور مسبّب” کی تعبیر اختیار کی جائے۔»




