جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں نئی پابندیوں پر اعتراضات کی لہر

معروف کھلاڑی کے ردِ عمل سے لے کر باحجاب طالبات پر تعلیمی پابندی کے خاتمے کے لئے والدین اور سول اداروں کے مطالبات تک
جمہوریہ آذربائیجان میں باحجاب طالبات اور اساتذہ کو اسکولوں میں داخلے سے روکنے نے اس ملک کے مسلمان گھرانوں اور معاشرے میں وسیع تشویش پیدا کر دی ہے۔
انتظامی حکام کا یہ نیا فیصلہ، جو تعلیمی ضوابط کی پاسداری کے دعوے کے تحت کیا گیا ہے، سڑکوں پر احتجاج، سرکردہ شخصیات کے ردِ عمل اور بین الاقوامی سطح پر مطالبات کی لہر کے ساتھ سامنا کر رہا ہے، کیونکہ یہ اقدام کم عمر بچیوں کو تعلیم جاری رکھنے اور اپنے دینی عقائد پر قائم رہنے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔
ہمارے ساتھی نے اس موضوع پر ایک رپورٹ تیار کی ہے جو ہم مل کر دیکھتے ہیں
وزیرِ اعظم آذربائیجان علی اسدوف کی کابینہ کی جانب سے جاری کردہ نئی ہدایات کے مطابق سرکاری اسکولوں میں اسلامی حجاب ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
سومقائیت، گنجہ اور صابر آباد جیسے شہروں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اہلکار باحجاب طالبات کو اسکول میں داخل ہونے سے روک رہے ہیں۔
ان روک ٹوک کی وجہ سے سائنسی اولمپیاڈز میں تمغے حاصل کرنے والی ممتاز طالبات کو بھی صرف حجاب کی وجہ سے کلاس میں داخلے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
ترکی کے اخبار "خبر 7” نے زمینی صورتِ حال کی کوریج کرتے ہوئے رپورٹ دی کہ طلباء کے اہلِ خانہ اور جنگِ قره باغ کے شہداء کے اہلِ خانہ کی ایک بڑی تعداد نے اس امتیازی سلوک کے خلاف اسکولوں کے سامنے احتجاجی اجتماع کیا۔
اس دوران بعض غیر محجبہ طالبات کی جانب سے اپنی تعلیم سے محروم ہم جماعتوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے طور پر سر ڈھانپ لینے کے اقدام کو سوشل میڈیا پر بے حد پذیرائی ملی۔
اسی طرح انقرہ سے شائع ہونے والے اخبار "ملی گزٹہ” نے استنبول میں آذربائیجان کے قونصلیٹ کے سامنے احتجاجی مظاہرے کی خبر دی، جس میں مظاہرین نے ان پابندیوں کو فی الفور ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
اس معاملے نے آذربائیجان کی عالمی سطح کی کھیلوں کی شخصیات کو بھی بولنے پر مجبور کر دیا؛ مکسڈ مارشل آرٹس اور UFC کے معروف فائٹر رفائیل فیزیف نے خواتین کی تعلیم کا معاشرے کی ترقی میں کلیدی کردار سے متعلق ایک تاریخی قول یاد دلاتے ہوئے باحجاب بچیوں کے داخلے پر پابندی پر احتجاج کیا۔
اسی دوران خبر رساں ایجنسی "الکا” اور سول سوسائٹی کے فعالین نے علمائے دین اور قانونی اداروں کے کردار پر زور دیتے ہوئے، اسکولوں کے ضابطۂ پوشش میں قانونی چارہ جوئی اور اصلاح کا مطالبہ کیا ہے تاکہ کوئی بھی مسلمان بچی حقِ تعلیم سے محروم نہ رہے۔
بہت سے قانون دانوں اور سماجی کارکنوں کا ماننا ہے کہ باحجاب طالبات کے داخلے پر پابندی نہ صرف انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین اور سب کے لیے تعلیم تک رسائی کے حق کے منافی ہے، بلکہ تعلیمی ماحول پر ایک ناروا رویہ مسلط کرنے کے مترادف ہے۔
ماہرینِ قانون اور سماجی فعالین خبردار کرتے ہیں کہ اس طرح کے منفی اقدامات نوجوان نسل کے تعلیمی جذبے کو شدید طور پر کمزور کر سکتے ہیں اور معاشرے کے مذہبی طبقات میں عوامی ناراضی کو بڑھا سکتے ہیں۔
والدین بھی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ حجاب ایک ذاتی اور اعتقادی فیصلہ ہے اور اسے ان کے بچوں کی علمی ترقی میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔
اسی طرح ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ بچیوں کو تعلیمی ماحول سے دور رکھنا سنگین نفسیاتی اور سماجی نقصانات کا باعث بنتا ہے اور اس مسئلہ کے حل کے لئے منصفانہ طرزِ عمل کی ضرورت ہے تاکہ تمام طلباء بلا امتیاز اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔




