ہندوستان

دہلی میں احتجاج کے پیشِ نظر میٹرو اسٹیشن بند، 245 ٹرینیں منسوخ؛ متعدد رہنما حراست میں

نئی دہلی، 10 اکتوبر 2026ء: انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (SIR) کے خلاف مجوزہ احتجاج سے قبل دہلی میں سکیورٹی سخت کر دی گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، میٹرو کے 45 اسٹیشنز کے داخلی و خارجی راستے بند کئے گئے، 245 ٹرینیں منسوخ ہوئیں، اہم شاہراہوں پر ناکہ بندی کی گئی اور مرکزی دہلی کے مخصوص علاقے میں موبائل انٹرنیٹ خدمات معطل رہیں۔

آمدورفت متاثر: رپورٹس کے مطابق، میٹرو اسٹیشنز پر پابندیاں 9 اکتوبر کی رات سے 10 اکتوبر کی شام تک نافذ رہیں۔ نئی دہلی اور حضرت نظام الدین ریلوے اسٹیشن سے متعلق 245 ٹرینوں کی منسوخی کی اطلاع بھی دی گئی۔ جنتر منتر، کناٹ پلیس اور پارلیمنٹ اسٹریٹ سمیت اہم مقامات پر بیریکیڈنگ اور ٹریفک پابندیاں عائد کی گئیں۔

متعدد افراد حراست میں: میڈیا رپورٹوں کے مطابق، کاکروچ جنتا پارٹی (Cockroach Janta Party—CJP) کے بانی ابھجیت ڈپکے اور ان کے ساتھیوں سمیت متعدد کارکنوں کو حراست میں لیا گیا۔ ممتا بنرجی اور اروند کیجریوال سمیت اپوزیشن کے بعض رہنماؤں کو بھی پولیس نے حراست میں لیا۔ سخت حفاظتی انتظامات کے باوجود دہلی کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔

مظاہرین کے مطالبات: احتجاج کے منتظمین نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے، انتخابی فہرستوں میں شفافیت اور ووٹروں کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ خصوصی نظرثانی کے عمل سے ووٹر لسٹوں سے نام حذف ہونے کا خدشہ ہے۔

پولیس کا مؤقف: پولیس نے احتجاج کی اجازت نہ دینے کے فیصلے اور حفاظتی اقدامات کے لئے امن و امان سے متعلق خدشات کا حوالہ دیا۔ انتخابی فہرستوں میں دانستہ بے ضابطگیوں سے متعلق الزامات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔

احتجاج کے باعث دہلی میں آمدورفت متاثر ہوئی اور انتخابی شفافیت و شہری آزادیوں پر بحث نمایاں ہوئی۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button