27 ربیع الثانی؛ یوم وفات علامہ عقیل ترابی طاب ثراہجب منبر کی آواز فکر بن جائے

کچھ آوازیں وقت کے ساتھ خاموش نہیں ہوتیں، بلکہ یادوں، لفظوں اور فکری اثرات میں زندہ رہتی ہیں۔ کچھ خطیب صرف مجلس سے خطاب نہیں کرتے بلکہ اپنے عہد کے ذہن سے گفتگو کرتے ہیں۔ علامہ عقیل ترابی طاب ثراہ بھی ایسی ہی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے منبر کو محض خطابت کا وسیلہ نہیں بلکہ علم، شعور اور دینی بیداری کا ذریعہ بنایا۔
27 ربیع الثانی 1430ھ، مطابق 23 اپریل 2009ء، کراچی میں علامہ عقیل ترابی طاب ثراہ کا انتقال ہوا۔ ان کی وفات شیعی خطابت کی ایک معروف آواز کے خاموش ہونے کا واقعہ تھا، لیکن ان کے الفاظ اور فکری اثرات آج بھی ان کی یاد کو زندہ رکھتے ہیں۔
علامہ عقیل ترابی طاب ثراہ ایسے علمی خانوادے سے تعلق رکھتے تھے جس میں علم، ادب اور خطابت ایک دوسرے سے مربوط تھے۔ ان کے والد معروف عالم و خطیب علامہ رشید ترابی طاب ثراہ برصغیر کی مذہبی خطابت کا ایک نمایاں نام تھے۔ علامہ عقیل ترابی طاب ثراہ نے اس علمی و خطیبانہ وراثت کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنے زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا۔
ان کی خطابت کی اہمیت صرف الفاظ کی روانی یا آواز کی تاثیر میں نہیں تھی، بلکہ اس کوشش میں تھی کہ مذہبی موضوعات کو فکری اور اخلاقی سوالات سے جوڑا جائے۔ ان کے نزدیک منبر محض ماضی کے واقعات دہرانے کی جگہ نہیں، بلکہ حال کے انسان کو اپنے ایمان، کردار اور ذمہ داری پر غور کرنے کی دعوت بھی تھا۔
ایک اچھا خطیب سامع کو متاثر کرتا ہے، لیکن بڑا خطیب اسے سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہی سوچ کسی مجلس کے اختتام کے بعد بھی انسان کے ساتھ رہتی ہے۔
کربلا اسی فکر کا سب سے بڑا استعارہ ہے۔ امام حسین علیہ السلام کی قربانی صرف تاریخ کا ایک واقعہ نہیں بلکہ ہر دور کے انسان کے لئے حق، عدل، عزیمت اور ذمہ داری کا سوال ہے۔ اگر کربلا ہماری آنکھوں کو نم کرتی ہے تو اسے ہمارے کردار کو بھی بدلنا چاہیے۔ اگر منبر ہمیں امام حسین علیہ السلام کا نام سناتا ہے تو اسے امام حسین علیہ السلام کی سیرت پر چلنے کا حوصلہ بھی دینا چاہیے۔
علامہ عقیل ترابی طاب ثراہ کی یاد اسی منبر کی یاد ہے جو عقیدت کو شعور اور تاریخ کو عمل سے جوڑنے کی دعوت دیتا ہے۔
آج مذہبی خطابت کا ماحول بدل چکا ہے۔ مجلس کا منبر اب صرف مسجد، امام بارگاہ یا حسینیہ تک محدود نہیں؛ سوشل میڈیا کے ذریعہ ایک خطاب چند لمحوں میں ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتا ہے۔ لیکن ذرائع بدلنے کے باوجود منبر کی بنیادی ذمہ داری نہیں بدلی۔
آج بھی ضرورت ایسے منبر کی ہے جو علم کو جذبات سے، عقیدے کو اخلاق سے اور کربلا کو کردار سے جوڑ سکے۔
علامہ عقیل ترابی طاب ثراہ کا یومِ وفات ہمیں صرف ایک مرحوم خطیب کی یاد نہیں دلاتا بلکہ ایک بنیادی سوال بھی ہمارے سامنے رکھتا ہے کہ کیا ہماری آوازیں صرف سنائی دیتی ہیں یا انسان کے دل و کردار کو بھی بدلتی ہیں؟
شاید یہی سوال کسی خطیب کی سب سے بڑی یادگار ہے۔
27 ربیع الثانی ہمیں ایک ایسی شخصیت کو یاد کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے جس نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ علم، خطابت اور دینی پیغام رسانی کے لئے وقف کیا۔ انسان دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے، مگر اس کا اخلاص، اس کی فکر اور اس کے الفاظ باقی رہتے ہیں۔
علامہ عقیل ترابی طاب ثراہ بھی رخصت ہوگئے، مگر منبر کی وہ آواز آج بھی ایک سوال کی صورت میں زندہ ہے کہ علم ہمیں کتنا بدل رہا ہے، اور ہماری خطابت معاشرے کو کتنا بدل رہی ہے؟
اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ محمد و آلِ محمد علیہم السلام میں بلند مقام عطا فرمائے اور ان کے علمی و تبلیغی آثار کو صدقۂ جاریہ قرار دے۔




