مقالات و مضامین

قرآن کریم کی نظر میں انسان کی نجات کا معیار؛ ثروت اس وقت باوقار ہے جب انفاق، سماجی ذمہ داری اور رضائے الٰہی کے ساتھ ہو

قرآن کریم ثروت اور مالی خوشحالی کو تنہا انسان کی نجات کا معیار قرار نہیں دیتا، بلکہ مال کی قدر و قیمت کو اس کے مصرف اور اس نیت میں دیکھتا ہے جو اس سرمایہ کے پیچھے پوشیدہ ہے۔

سورہ لیل، سورہ ضحیٰ اور سورہ انشراح میں قرآنی تعلیمات کی رو سے، رضائے خدا کے لئے انفاق، حاجت مندوں پر توجہ، نعمتوں پر شکر گزاری اور سختیوں کے مقابلے میں ثابت قدمی، راہِ نجات کے اہم ترین مظاہر ہیں۔

اس حوالے سے ہمارے ساتھی کی رپورٹ ملاحظہ فرمائیے:

قرآن کریم سورہ لیل کی آخری آیات میں انسان کے سامنے دو الگ راستوں کی تصویر کھینچتا ہے؛ ایک وہ راستہ جو بدبختی اور آتشِ جہنم کی طرف لے جاتا ہے اور دوسرا وہ جو تقویٰ، انفاق اور رضائے الٰہی سے پیوستہ ہے۔

ان آیات میں متقی انسان کو ایسے شخص کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے جو اپنے مال کو تزکیہ نفس اور پاکیزگی کے لئے دیتا ہے اور اس بخشش سے اس کا مقصد پروردگار کی رضا کا حصول ہوتا ہے، نہ کہ کسی بدلے یا دوسروں کے احسان کا شکریہ۔

اس نقطۂ نظر میں انفاق کی قدر صرف دی جانے والی رقم کی مقدار سے وابستہ نہیں، بلکہ انسان کی نیت بھی اس میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔

قرآن کریم سورہ مبارکہ لیل کی آیت 18 میں ایسے فرد کے بارے میں فرماتا ہے: "الَّذِي يُؤْتِي مَالَهُ يَتَزَكَّى” یعنی وہ جو اپنا مال پاکیزگی حاصل کرنے کے لئے دیتا ہے۔

لہٰذا دولت اسی صورت میں انسان کی معنوی ترقی میں معاون بن سکتی ہے جب وہ قربِ الٰہی کا وسیلہ اور دوسروں کی دستگیری کا ذریعہ بنے اور انسان کو مال و دنیا کی افراطی وابستگی سے دور کر دے۔

قرآن کریم سورہ ضحیٰ میں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کو الٰہی نعمتوں کی یاد دہانی کراتے ہوئے نعمت اور سماجی ذمہ داری کے درمیان ربط قائم کرتا ہے۔

یتیمی، ہدایت اور حاجت مندی کی یاد دہانی کے بعد سورہ ضحیٰ کی آیت 9 اور 10 میں یتیم کی حمایت اور سائل کا خیال رکھنے کا حکم دیا گیا ہے: "فَأَمَّا الْيَتِيمَ فَلَا تَقْهَرْ” اور "وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْهَرْ” یعنی "پس یتیم پر سختی نہ کرو اور اسے ذلیل و خوار نہ کرو، اور سائل کو نہ جھڑکو۔”

یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ جو شخص نعمت سے بہرہ مند ہوا ہے، محروموں کے مقابلے میں اس پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور اسے اپنی سہولتوں کو صرف اپنی ذاتی آسائش کے لئے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

اسی طرح سورہ انشراح کی آیت 5 میں "فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا” یعنی "پس بے شک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے” کے جملے کو دہرا کر سختی کے ساتھ آسانی کے وجود پر تاکید کی گئی ہے اور انسان کو مسلسل کوشش اور امیدواری کی دعوت دی گئی ہے۔

آخر میں بھی انسان کی توجہ پروردگار کی جانب مبذول کرائی گئی ہے۔

اس بنیاد پر، قرآن کریم کی نگاہ میں ثروت زندگی کا آخری ہدف نہیں، بلکہ ایک ایسی نعمت ہے جو تزکیہ نفس، بندگانِ خدا کی خدمت اور رضائے الٰہی کے حصول کا وسیلہ بن سکتی ہے۔

نجات کا اصل معیار انسان کے مال و دولت کی مقدار نہیں، بلکہ نعمت سے استفادہ کا طریقہ، حاجت مندوں کی جانب اس کی توجہ کی کیفیت اور وہ نیت ہے جو اس کے اعمال کے پسِ پشت کارفرما ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button