قرآن و اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات کی سکون بخش ظرفیتوں پر نظرِ ثانی

عالمی ادارہ صحت (WHO) کی جانب سے 10 اکتوبر کو "عالمی یومِ دماغی صحت” سال کی سب سے نمایاں سالانہ مناسبت کے طور پر منایا جاتا ہے، جس کا مقصد دنیا بھر میں عوامی آگاہی کو فروغ دینا، سماجی بدنامی کو کم کرنا اور دماغی صحت کی خدمات تک رسائی کو بہتر بنانا ہے۔
آج کی تیز رفتار اور دباؤ سے بھرپور دنیا میں، نفسیاتی امراض کو جامع نگاہ سے دیکھنا اور تلفیقی نقطہ نظر اپنانا — یعنی جدید طبی علوم اور روحانی و معنوی عقائد کے درمیان امتزاج — معیارِ زندگی کی بہتری، روحانی آسیب سے بچاؤ اور معاشروں میں نفسیاتی استحکام کے قیام میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
اسی موضوع کا جائزہ لینے والی ہمارے ساتھی کی رپورٹ ملاحظہ فرمائیے:
عالمی ادارہ صحت کی تعریف کے مطابق دماغی صحت سے مراد صرف نفسیاتی بیماری یا خلل کا نہ ہونا نہیں، بلکہ جسمانی، ذہنی اور سماجی اعتبار سے مکمل فلاح و آسودگی کی وہ کیفیت ہے جس میں فرد اپنی صلاحیتوں کو پہچان سکے، زندگی کے معمول کے دباؤ کا مقابلہ کر سکے، مفید انداز میں کام کر سکے اور اپنے معاشرے میں مؤثر کردار ادا کر سکے۔
10 اکتوبر کو اس عالمی دن کے طور پر نامزد کرنا، پالیسی سازوں، ماہرینِ صحت اور فلاحی اداروں کے لئے ایک عالمی موقع فراہم کرتا ہے تاکہ وہ سماجی نفسیاتی طب، نفسیاتی خدمات کی توسیع اور کمزور طبقات کی حمایت کی اہمیت کو اجاگر کریں اور روحانی مشکلات سے دوچار افراد کو تنہائی کا شکار ہونے سے بچائیں۔
دماغی صحت سے متعلق جدید تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ نفسیاتی اور دوائیوں پر مبنی مداخلتوں کے ساتھ ساتھ معنوی عوامل اور اخلاقی طرزِ زندگی بھی ذہنی بحران، ڈپریشن اور اضطراب کے مقابلے میں نفسیات کو مستحکم کرنے اور روک تھام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اسلامی معارف میں دماغی صحت کو خصوصی مقام حاصل ہے اور روح و جسم کے درمیان توازن کو صحت مند انفرادی و سماجی رویوں کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔
دینی تعلیمات کائنات کے بارے میں بامعنی نقطہ نظر پیش کر کے زندگی کے مقصد کی واضح تعریف فراہم کرتی ہیں جو انسان کو پوچ پن اور ناامیدی میں مبتلا ہونے سے بچاتی ہے۔
قرآن کریم کی تعلیمات میں خدائے متعال پر توکل، مصائب پر صبر اور یادِ الٰہی کو انسانی نفس کے لیے سب سے زیادہ سکون بخش عناصر کے طور پر پیش کیا گیا ہے؛ جہاں اللہ تعالیٰ سورۂ رعد کی آیت 28 میں فرماتا ہے: "أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ” (خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے)۔
قرآن کریم، امید بہ رحمتِ الٰہی اور مایوسی سے اجتناب جیسے مفاہیم کو فروغ دے کر زندگی کے شدید دباؤ سے نمٹنے کے لئے مضبوط نفسیاتی طریقہ کار فراہم کرتا ہے۔
اسی طرح اہلِ بیت علیہم السلام کی متعدد روایات میں سکون و اطمینان کو برقرار رکھنے، غصے پر قابو پانے، حسنِ ظن رکھنے اور حسد و کینہ سے بچنے پر بہت زور دیا گیا ہے، جو بہت سی روحانی بیماریوں کی جڑ ہیں۔
امیر المومنین امام علی علیہ السلام ایک جامع کلام میں فرماتے ہیں: "العَافِيَةُ عَشَرَةُ أَجْزَاءٍ، تِسْعَةٌ مِنْهَا فِي الصَّمْتِ إِلاَّ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ، وَوَاحِدٌ فِي تَرْكِ مُجَالَسَةِ السُّفَهَاءِ”؛ "عافیت و تندرستی (جسم و روح کی) کے دس حصے ہیں؛ نو حصے خاموشی میں ہیں — سوائے ذکرِ خدا کے — اور ایک حصہ نادانوں اور بیوقوفوں کی ہم نشینی کو ترک کرنے میں ہے۔”
یہ گراں قدر فرمان اس بات کی دلیل ہے کہ رفتاری نظم و ضبط اور ذہنی بهداشت، نفسیاتی سلامتی اور سماجی ہم آہنگی کی ضمانت دیتا ہے۔
اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات دعا، صحت مند خاندانی روابط اور صلۂ رحمی کی تاکید کے ذریعے معاشرے میں دماغی صحت کے فروغ کے لئے ایک مضبوط حمایتی نظام تشکیل دیتی ہیں۔




