دنیا

نسلِ Z سڑکوں پر: کرپشن، مہنگائی اور مکانات سے لے کر تعلیم تک، دنیا بھر کے نوجوان سراپا احتجاج

سن ۲۰۲۴ سے ۲۰۲۶ کے دَوران دنیا کے مختلف ملکوں میں نوجوانوں کے احتجاج کی ایک لہر اٹھی ہے۔ یہ احتجاج اگرچہ ہر ملک میں الگ الگ مطالبات کے ساتھ شروع ہوئے، لیکن کرپشن، معاشی دباؤ، مہنگائی، مکانات، سرکاری خدمات اور تعلیم کے معیار جیسے مسائل ان میں سے بیشتر کا محور رہے ہیں۔

بنگلہ دیش اور کینیا سے لے کر نیپال اور فرانس تک، نوجوان نسل نے سوشل میڈیا کے بھرپور استعمال سے اپنے احتجاج کو سڑکوں تک پہنچا دیا اور سماجی تبدیلیوں کے اہم کرداروں میں شمار ہونے لگی۔
ہماری ساتھی نے اس سلسلے میں ایک رپورٹ تیار کی ہے، آئیے ہم سب مل کر دیکھتے ہیں:

گزشتہ دو برسوں میں دنیا کے مختلف گوشوں میں نوجوانوں کے احتجاج کا دائرہ موضوع اور جغرافیے، دونوں اعتبار سے خاصا وسیع ہو گیا ہے۔

کینیا میں نسلِ Z کے بڑے پیمانے پر احتجاج جون ۲۰۲۴ میں ٹیکس میں اضافے اور کرپشن نیز حکومتی اخراجات سے جُڑے مسائل کے ردِّ عمل میں شروع ہوئے۔

بنگلہ دیش میں بھی طلبہ کے احتجاج جولائی ۲۰۲۴ سے سرکاری ملازمتوں میں کوٹا سسٹم کی اصلاح کے مطالبے پر شروع ہوئے اور پھر ایک وسیع تر سیاسی بحران کی شکل اختیار کر گئے۔

سربیا میں طلبہ کے احتجاج نومبر ۲۰۲۴ سے نووی ساد کے ریلوے اسٹیشن کی چھت گرنے کے حادثے کے بعد جواب دہی کے مطالبے کے ساتھ شروع ہوئے۔

جارجیا میں بھی اسی سال اکتوبر سے انتخابات اور سیاسی معاملات سے متعلق احتجاج دیکھنے میں آئے۔

اسپین میں مکانات کا بحران اور کرائے میں اضافہ سنہ ۲۰۲۵ میں نوجوانوں کے احتجاج کے بنیادی محوروں میں سے ایک بن گیا۔

اسی دوران انڈونیشیا میں اگست ۲۰۲۵ کے احتجاج میں ارکانِ پارلیمنٹ کی مراعات پر تنقید اور معاشی دباؤ کا مسئلہ بھی شامل رہا۔

نیپال میں بھی نسلِ Z کے احتجاج ستمبر ۲۰۲۵ میں کرپشن اور سوشل میڈیا پر عائد پابندیوں کے محور پر مرکوز رہے، جن کا نتیجہ اہم سیاسی تبدیلیوں کی صورت میں نکلا۔

مڈغاسکر میں بھی نوجوان ستمبر اور اکتوبر ۲۰۲۵ میں بجلی اور پانی کی بندش، معاشی مشکلات اور کرپشن کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔

لیکن سنہ ۲۰۲۶ میں فرانس طلبہ کے احتجاج کے سب سے اہم مراکز میں سے ایک بن گیا ہے۔

یہ تحریک ۲۱ ستمبر کو پیرس کے مضافات میں اساتذہ کی کمی کے خلاف شروع ہوئی اور پھر ملک کے مختلف حصوں میں پھیل گئی۔

احتجاج کرنے والے بھرے ہوئے کلاس روم، تدریسی عملے کی کمی، اسکولوں کی عمارتوں کی خستہ حالی اور تعلیمی دباؤ پر نکتہ چینی کر رہے ہیں۔

۶ اکتوبر کو طلبہ، اساتذہ اور والدین نے فرانس میں سیکڑوں مقامات پر اجتماع کیا اور ۸ اکتوبر کو بھی احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔

ان تمام پیش رفتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف ملکوں میں نوجوان نسل کے مطالبات اگرچہ یکساں نہیں ہیں، لیکن بیشتر معاملات میں وہ معیارِ زندگی، سماجی انصاف، سرکاری خدمات، معاشی مواقع اور حکمراں اداروں کی جواب دہی کے گرد تشکیل پائے ہیں۔

سوشل میڈیا نے بھی ان احتجاجوں کو منظم کرنے اور تیزی سے پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button