یورپ

فرانس میں مسلمانوں کے خلاف حملوں میں ایک سال میں 88 فیصد اضافہ

وزارتِ داخلہ کی رپورٹ میں جسمانی تشدد، مساجد کی بے حرمتی اور اسلام دشمنی میں بے مثال اضافے کا انکشاف

سرکاری اعداد و شمار گزشتہ ایک برس کے دوران فرانس میں مسلمانوں کے خلاف مذہبی دباؤ اور دشمنانہ رویوں کی بے مثال لہر کو ظاہر کرتے ہیں۔

سرکاری ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ فرانس میں مسلمانوں کے خلاف تشدد اور توہین کے واقعات میں 88 فیصد اضافہ ہوا ہے اور حالیہ مدت میں تشدد، دھمکیوں اور مذہبی مقدسات کی بے حرمتی کے 326 سے زائد کیس درج کئے گئے ہیں۔

خبر ویب سائٹ "وصال” کی رپورٹ کے مطابق، جو فرانس کی وزارتِ داخلہ کے سرکاری اعداد و شمار پر مبنی ہے، افراد پر براہِ راست حملوں بشمول جسمانی تشدد، ڈرانے دھمکانے اور زبانی بدسلوکی میں 151 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ مساجد اور عبادت گاہوں کے خلاف توہین آمیز کارروائیوں میں تین گنا سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔

نگران ادارے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ اعداد و شمار صرف سرکاری طور پر درج شدہ واقعات کو ظاہر کرتے ہیں، جبکہ فرانس میں اسلام دشمنی اور مذہبی شعائر کی بے حرمتی کے حقیقی ابعاد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button