اسلام قبول کرنے کے بعد گزشتہ عبادات کو ادا کرنا واجب نہیں، اور یہ حکم روایت "اَلْإِسْلَامُ يَجُبُّ مَا قَبْلَهُ” نیز معصوم علیہ السلام کے عمل اور تقریر سے ثابت ہے: آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی
اسلام قبول کرنے کے بعد گزشتہ عبادات کو ادا کرنا واجب نہیں، اور یہ حکم روایت "اَلْإِسْلَامُ يَجُبُّ مَا قَبْلَهُ” نیز معصوم علیہ السلام کے عمل اور تقریر سے ثابت ہے: آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی
مرجع عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی کی روزانہ علمی نشست ہفتہ 21 ربیع الثانی 1448 کو منعقد ہوئی۔
اس نشست میں حسبِ سابق معظم لہ نے حاضرین کے مختلف فقہی سوالات کے جوابات ارشاد فرمائے۔
آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے نومسلم افراد کی سابقہ عبادات کے شرعی حکم سے متعلق سوال کے جواب میں فرمایا: روایت "اَلْإِسْلَامُ يَجُبُّ مَا قَبْلَهُ” (اسلام اپنے سے قبل کے اعمال اور سزاؤں کو ساقط کر دیتا ہے) نہ صرف اہلِ سنت کے اسناد سے بلکہ شیعہ طرق و اسناد سے بھی منقول ہے اور مکمل طور پر معتبر ہے۔
معظم لہ نے اس مسئلہ کے شرعی دلائل کی وضاحت کرتے ہوئے مزید فرمایا: اس روایت سے صرفِ نظر بھی، "معصوم علیہ السلام کا عمل” خود اس حکم پر مستقل دلیل ہے، کیونکہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں ہزاروں افراد کے اسلام لانے کے باوجود ان میں سے کسی سے بھی یہ نہیں فرمایا کہ اپنی گزشتہ نمازوں، روزوں یا حج کو دوبارہ ادا کرو۔
انہوں نے مزید تاکید فرمائی: تمام معصومین علیہم السلام کی سیرت بھی اسی نہج پر رہی ہے اور معصوم کے عمل کے علاوہ "معصوم کی تقریر” بھی سابقہ عبادات کے عدمِ وجوب کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے۔




