عالمی نظام میں انڈونیشیا کی نئی حکمت عملی؛ برکس میں شمولیت کے چیلنجز سے لے کر جنوب مشرقی ایشیا میں معاشی و ٹیکنالوجی کی بڑی چھلانگ تک

بریکس میں انڈونیشیا کی باضابطہ شمولیت اور اس کی تیز رفتار معاشی ترقی، دنیا کے سب سے بڑے مسلم ملک کی خارجہ پالیسی اور داخلی ترقی میں اہم اسٹریٹجک تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔
اس اقدام کا مقصد عالمی سطح پر اپنا مقام بلند کرنا، جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کرنا اور سفارتی صلاحیتوں کو ٹھوس معاشی فوائد میں بدلنا ہے۔
اس حوالے سے ہمارے ساتھی کی تیار کردہ رپورٹ دیکھتے ہیں:
انڈونیشیا حالیہ برسوں میں جنوب مشرقی ایشیا میں معاشی ترقی اور صنعتی جدت میں سرِفہرست ملک بن کر ابھرا ہے۔
جکارتہ نے بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں، ہمہ گیر ڈیجیٹلائزیشن اور معدنیات کی پراسیسنگ اور الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹریوں جیسی ذیلی صنعتوں کی ترقی کے ذریعہ بھاری غیر ملکی سرمایہ کاری کو جذب کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
مسلسل جی ڈی پی میں اضافے اور دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہونے کی وجہ سے انڈونیشیا خام مال برآمد کرنے والے ملک سے خطہ کے ایک صنعتی اور ٹیکنالوجی ہب میں تبدیل ہو گیا ہے۔
بین الاقوامی پالیسی کے تجزیاتی جریدہ "ایسٹ ایشیا فورم” کے تجزیوں کے مطابق، صدر پرابوو سوبیانتو کا برکس میں شمولیت کا فیصلہ جیو پولیٹیکل توازن اور عالمی تعلقات میں جکارتہ کے کردار کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
تاہم ماہرین کہتے ہیں کہ عالمی فورمز میں موجودگی اسی وقت قومی معیشت کے لئے فائدہ مند ہوگی جب اس کے ساتھ روزگار، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور سپلائی چین کی ترقی کے لئے مربوط داخلی منصوبہ بندی بھی کی جائے۔ یہی طریقہ بھارت نے بھی برکس کی صدارت کے دوران اپنی داخلی معاشی ترجیحات کو کثیرالجہتی سفارت کاری سے جوڑ کر اپنایا تھا۔
انڈونیشیا نیو ڈیولپمنٹ بینک اور مقامی کرنسیوں میں لین دین کے ذریعہ برکس میں اپنے معاشی اثر کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ اپنی "فعال اور آزاد” خارجہ پالیسی اور اسٹریٹجک خودمختاری کو بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔
یہ ملک بڑی طاقتوں کی سخت بلاک بندی سے دور رہتے ہوئے مشرق و مغرب کے تمام فریقین کے ساتھ متوازن تعلقات رکھے ہوئے ہے تاکہ اپنی معاشی استحکام اور قومی سلامتی کو یقینی بنا سکے۔
ماہرین کے مطابق انڈونیشیا نے مسلم ممالک کے لیے متوازن ترقی کی ایک کامیاب مثال قائم کی ہے۔ ایسا ملک جس نے شاندار معاشی ترقی، نئے شعبوں میں جدت اور ذہین سفارت کاری کو اپنے مقام کو بلند کرنے کے لئے استعمال کیا ہے۔
بدلتے ہوئے عالمی نظام میں اس کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ وہ عالمی معاہدوں سے حاصل ہونے والے فوائد کو کس طرح پائیدار داخلی ترقی میں بدلتا ہے۔




