دنیاہندوستان

مہاتما گاندھی اور فکرِ عاشورا؛ سلطان المؤلفین کی نظر میں

2 اکتوبر، گاندھی جینتی پر خصوصی کالم

سلطانُ المؤلفین، مرجعِ راحل آیۃ اللہ العظمیٰ سید محمد حسینی شیرازی قدس سرہٗ کے بعض منقول بیانات میں مہاتما گاندھی کا ذکر امام حسین علیہ السلام، مظلومیت، عدمِ تشدد، عزم و استقامت اور اجتماعی جدوجہد کے حوالے سے ملتا ہے۔ ان بیانات سے مہاتما گاندھی کی شخصیت کے بجائے ان کی جدوجہد کے بعض پہلوؤں کے مطالعہ کی اہمیت سامنے آتی ہے۔

امام حسین علیہ السلام اور مہاتما گاندھی

کتاب "الاستفادة من عاشوراء” میں ایک عبارت میں مہاتما گاندھی کو ’’ہندوستان کا نجات دہندہ‘‘ قرار دیتے ہوئے لکھا کہ انہوں نے امام حسین علیہ السلام سے یہ سیکھا کہ مظلوم رہتے ہوئے فتح کس طرح حاصل کی جاتی ہے۔ اس کے بعد مسلمانوں، بالخصوص شیعیانِ امام حسین علیہ السلام کو عاشورا کی اس عطا سے زیادہ فائدہ اٹھانے کا حق دار قرار دیا گیا ہے۔

یہاں بنیادی نکتہ واقعہ عاشورا کے پیغام کو ایک تاریخی جدوجہد میں منعکس ہوتے دیکھنا ہے۔

عدمِ تشدد؛ اسلامی تعلیم اور گاندھی

ایک عربی ماخذ میں آیۃ اللہ العظمیٰ سید محمد شیرازی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ سے منقول ہے: "مبدأ اللاعنف هو شعار الإسلام قبل أن يتخذه غاندي شعاراً…” یعنی عدمِ تشدد کا اصول اسلام کی تعلیمات میں اس وقت سے موجود تھا جب گاندھی نے اسے اپنا شعار نہیں بنایا تھا۔

اس زاویۂ نظر سے گاندھی کی جدوجہد کو ایک ایسے اصول کے عملی اظہار کے طور پر دیکھا گیا ہے جس کی جڑیں اسلامی تعلیمات میں پہلے سے موجود ہیں۔

گاندھی کا مطالعہ، محض ستائش نہیں

ایک فارسی بیان میں مرجعِ راحل قدس سرہٗ فرماتے ہیں: "بنده قصد ستایش گاندی را ندارم.” یعنی میرا مقصد گاندھی کی ستائش کرنا نہیں ہے۔”

اسی بیان میں فرماتے ہیں: "بارها کتاب‌های گاندی و حتی شاگردان او را مطالعه کردم.” یعنی میں گاندھی کی کتابوں، بلکہ ان کے شاگردوں کی تحریروں کا بھی بارہا مطالعہ کرچکا ہوں۔‘‘

یہ دونوں جملے اس موضوع کی سمت متعین کرتے ہیں کہ مہاتما گاندھی کو سمجھنے کے لئے ان کے افکار، تحریروں اور عملی جدوجہد کا مطالعہ کیا جائے، نہ کہ محض شخصیت کے طور پر دیکھا جائے۔

آیۃ اللہ العظمیٰ سید محمد شیرازی قدس سرہٗ کے ان منقول بیانات کو سامنے رکھا جائے تو مہاتما گاندھی کا ذکر ایک تاریخی تجربہ اور فکری مطالعہ کے طور پر سامنے آتا ہے۔ امام حسین علیہ السلام کی مظلومیت و استقامت، عدمِ تشدد اور اجتماعی جدوجہد کے درمیان جن پہلوؤں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے، وہ آج بھی غور و فکر کا موضوع بن سکتے ہیں۔

گاندھی جینتی کا موقع صرف ایک تاریخی شخصیت کو یاد کرنے کا دن نہیں؛ یہ اس سوال پر غور کرنے کا موقع بھی ہے کہ ظلم کے مقابلے میں استقامت، تشدد کے بغیر جدوجہد اور اجتماعی اصلاح کی قوت کہاں سے پیدا ہوتی ہے؟ عاشورا اس سوال کا اپنا جواب رکھتا ہے، اور تاریخ مہاتما گاندھی کی جدوجہد کی صورت میں اس کا ایک الگ تجربہ ہمارے سامنے پیش کرتی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button