گرجستان کے پہاڑی علاقے میں لکڑی کی مساجد کی تباہی کا خطرہ
گرجستان کے پہاڑی علاقے میں لکڑی کی مساجد کی تباہی کا خطرہ
ثقافتی کارکنان کی مسلمانوں کے ورثے کو فراموشی اور بے توجہی کا شکار ہونے سے متعلق وارننگ
گرجستان کے جنوب مغرب میں واقع پہاڑی علاقے آجارا کی بلندیوں میں 50 سے زائد لکڑی کی مساجد موجود ہیں جن کی قدمت 200 سال سے زائد ہے۔
یہ تاریخی عمارتیں جو اسی علاقہ کے جنگلات کی لکڑی سے روایتی طرزِ تعمیر پر بنائی گئی ہیں، اس ملک میں مسلمانوں کی تاریخ و ثقافت کی علامت شمار ہوتی ہیں۔
تاہم شدید بوسیدگی، عدم توجہی، نامساعد موسمی حالات اور حالیہ آتشزدگی کے واقعات، جن میں دو مساجد مکمل طور پر تباہ ہو گئیں، نے اس قیمتی ورثے کو مکمل نابودی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی "اناطولی” کی رپورٹ کے مطابق، اس حقیقت کے باوجود کہ آجارا کی تقریباً ایک تہائی آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے، ان مقامات کی مرمت اور حفاظت کے لیے حکومتی اقدامات نہایت معمولی رہے ہیں۔
مقامی کارکنان خبردار کر رہے ہیں کہ معاشی مشکلات، دیہی آبادی کی نقل مکانی اور انتظامی پیچیدگیاں ان عمارتوں کی دیکھ بھال میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔
مقامی کارکنان اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ لکڑی کی مساجد محض عبادت گاہیں نہیں، بلکہ گرجستان میں مسلم معاشرے کی زندہ تاریخ اور شناخت کا اہم حصہ ہیں اور فوری مرمت و بحالی کی متقاضی ہیں۔




