ایشیاء

ملائیشیا سے ہزاروں روہنگیا مسلمان پناہ گزینوں کی بے دخلی اور واپسی کا عمل شروع

ملائیشیا حکومت نے میانماری پناہ گزینوں کو بڑے پیمانے پر بے دخل کرنے کے منصوبے کے پہلے مرحلے کا آغاز کرتے ہوئے تقریباً 1500 افراد کو واپس ان کے ملک بھیج دیا ہے۔

یہ اقدام بین الاقوامی مخالفت اور انسانی حقوق کے اداروں کی گہری تشویش کے باوجود کیا جا رہا ہے، جس سے ان بے گھر افراد کی جبری واپسی عمل میں آ رہی ہے جن کا ملک بدستور خانہ جنگی، منظم تشدد اور شدید بے چینی کا شکار ہے۔

اس حوالے سے ہمارے ساتھی نے ایک رپورٹ تیار کی ہے جو ہم ایک ساتھ دیکھتے ہیں:

میانمار کے مسلمان مہاجرین کا بحران جو کئی برس قبل ریاست رخائن میں میانمار کی فوج کے خونین کریک ڈاؤن کے بعد شروع ہوا تھا، آج بھی ایشیا کے پیچیدہ ترین انسانی مسائل میں شمار ہوتا ہے۔

ایسے میں جب دس لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش کے پناہ گزین کیمپوں میں انتہائی سخت حالات میں زندگی گزار رہے ہیں، دسیوں ہزار دیگر افراد نے ملائیشیا میں پناہ لے رکھی تھی۔

ملائیشیا میں روہنگیا مسلمان پناہ گزینوں کو باضابطہ قانونی حیثیت حاصل نہ ہونے کی وجہ سے رسمی تعلیم اور علاج معالجہ کی سہولیات میسر نہیں تھیں اور وہ صرف غیر رسمی شعبوں میں کام کر رہے تھے، لیکن اس کے باوجود وہ ملائیشیا میں زندگی کو اپنے ملک میں داخلی تشدد کا سامنا کرنے سے زیادہ محفوظ سمجھتے تھے۔

تاہم، پناہ گزینوں کے تئیں کوالالمپور کا رویہ اب تبدیل ہو چکا ہے۔

الجزیرہ نیوز نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق ملائیشیا کی حکومت معاشی مشکلات اور سوشل میڈیا پر منفی تشہیری مہموں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیشِ نظر اپنی امیگریشن پالیسیوں کو سخت کر رہی ہے۔

نامناسب پیغامات کا پھیلاؤ اور آئندہ انتخابات سے قبل سیاسی مفاد پرستی نے روہنگیا پناہ گزینوں کے لئے سماجی ماحول کو غیر محفوظ بنا دیا ہے اور ان کی بے دخلی کے فیصلے پر عمل درآمد کی راہ ہموار کر دی ہے۔

ملائیشیا حکومت اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ پناہ گزینوں کی موجودگی نے بھاری مالی بوجھ اور سیکیورٹی چیلنجز پیدا کیے ہیں، 5 ہزار پناہ گزینوں کی واپسی کا منصوبہ نافذ کرنے جا رہی ہے۔

اس منصوبے کے پہلے مرحلے پر عمل درآمد ملائیشیا کی ریاست پیراک میں کیا گیا۔

خبر رساں ایجنسی روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی حصار میں درجنوں بسوں کے ذریعے تقریباً 1500 پناہ گزینوں کو، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، ایک بندرگاہ منتقل کیا گیا جہاں میانمار بحریہ کے بحری جہاز موجود تھے۔

اس دوران انسانی حقوق کے اداروں اور اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزینان نے تاکید کی ہے کہ 2021 کی فوجی بغاوت اور داخلی لڑائیوں کے تسلسل کے بعد میانمار کے موجودہ حالات مہاجرین کی محفوظ اور پائیدار واپسی کے لئے ہرگز سازگار نہیں ہیں اور ان افراد کو جانی خطرات اور دوبارہ جبر و تشدد کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button