افغانستان میں خواتین کے 80 فیصد سے زائد سول و امدادی اداروں کی بندش کے خطرے پر اقوامِ متحدہ کے شعبۂ خواتین کی شدید بجٹ بحران سے متعلق تنبیہ
افغانستان میں خواتین کے 80 فیصد سے زائد سول و امدادی اداروں کی بندش کے خطرے پر اقوامِ متحدہ کے شعبۂ خواتین کی شدید بجٹ بحران سے متعلق تنبیہ
افغانستان میں خواتین کی زیرِ قیادت امدادی و سول ادارے بین الاقوامی امداد میں شدید کمی کے بعد غیر معمولی مالی بحران سے دوچار ہو گئے ہیں۔
مالی وسائل میں کمی کے باعث ان مراکز کی کارکردگی میں نمایاں گراوٹ، افرادی قوت میں کمی اور خواتین و بچیوں کے لئے کئی امدادی، تعلیمی اور خود مختاری کے پروگرام معطل ہو گئے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی کابل نو کی رپورٹ کے مطابق اقوامِ متحدہ کے شعبۂ خواتین کی نئی تشخیص کے مطابق افغانستان میں فعال خواتین اداروں کے 82 فیصد سے زائد مکمل بندش کے خطرے سے دوچار ہیں۔
اس رپورٹ کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ان مراکز کی اکثریت ناکافی بجٹ کے باعث تخصصی خدمات میں کمی اور عملے کی چھانٹی پر مجبور ہو گئی ہے، یہاں تک کہ بعض ادارہ رضاکاروں سے کام لینے یا تنخواہوں میں کمی پر مجبور ہو گئے ہیں۔
اقوامِ متحدہ نے خواتین کی معاشی و سماجی ضروریات میں روز افزوں اضافے پر زور دیتے ہوئے ان اداروں کو انہدام سے بچانے کے لیے عالمی برادری سے براہِ راست اور پائیدار مالی معاونت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔




