اقوامِ متحدہ کی رپورٹ: شام میں اندرونی مہاجرین کی تعداد میں تاریخی کمی، دس لاکھ سے زائد افراد اپنے گھروں کو لوٹ گئے
اقوامِ متحدہ کی رپورٹ: شام میں اندرونی مہاجرین کی تعداد میں تاریخی کمی، دس لاکھ سے زائد افراد اپنے گھروں کو لوٹ گئے
شام میں سیاسی تبدیلی اور حالیہ تحولات نے اندرونی بے گھر افراد کی بڑے پیمانے پر اپنے گھروں اور آبائی علاقوں میں واپسی کی راہ ہموار کر دی ہے۔
یہ واپسی کا سلسلہ گزشتہ دو ماہ کے دوران مزید تیز ہو گیا ہے اور بڑی تعداد میں لوگوں نے عارضی کیمپ خالی کر دیے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور (اوچا) کی رپورٹ کے مطابق، شام میں نظامِ حکومت کی تبدیلی کے بعد سے اب تک 13 لاکھ 80 ہزار سے زائد اندرونی مہاجرین کیمپوں کو چھوڑ کر اپنے علاقوں میں واپس جا چکے ہیں۔
روسی نشریاتی ادارہ "راشا ٹوڈے” کی رپورٹ کے مطابق، اس واپسی کے بعد کیمپوں میں مقیم افراد کی تعداد 22 لاکھ سے کم ہو کر تقریباً 7 لاکھ 73 ہزار رہ گئی ہے۔
تاہم اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ شدید مالی بحران کے باعث انسانی امداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے اور ان افراد کو رضاکارانہ واپسی کے لئے دی جانے والی مالی امداد بھی روک دی گئی ہے۔




