علم اور ٹیکنالوجی

مصنوعی ذہانت سے بنی فلموں اور ڈراموں کی یلغار پر ماہرینِ ابلاغ کی تنبیہ؛ ناظرین کے ذوق میں تدریجی بگاڑ اور آن لائن فضا میں لسانی اغلاط کے پھیلاؤ کا خطرہ

مصنوعی ذہانت سے بنی فلموں اور ڈراموں کی یلغار پر ماہرینِ ابلاغ کی تنبیہ؛ ناظرین کے ذوق میں تدریجی بگاڑ اور آن لائن فضا میں لسانی اغلاط کے پھیلاؤ کا خطرہ

سوشل میڈیا پر مصنوعی ذہانت کے ذریعے مختصر فلموں اور ڈراموں کی بے تحاشا تیاری نے تفریحی صنعت میں ایک بڑی تبدیلی پیدا کر دی ہے۔

یہ عمل جہاں آزاد تخلیق کاروں کے لئے آسانیاں لایا ہے، وہیں مواد کے معیار میں گراوٹ، ناظرین کے ثقافتی ذوق میں بتدریج تبدیلی اور فارسی زبان کو لاحق نقصانات پر گہری تشویش بھی پیدا ہوئی ہے۔

اس موضوع پر ہمارے ساتھی کی تیار کردہ رپورٹ ملاحظہ کریں:

گزشتہ چند ماہ کے دوران مصنوعی ذہانت کے ذریعہ تیار کردہ کہانیوں اور مختصر ڈراموں کی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھرپور اشاعت نے لاکھوں صارفین کی توجہ حاصل کی ہے۔

اس نوظہور ٹیکنالوجی نے تصویری تخلیقات کی لاگت اور وقت میں غیر معمولی کمی کر کے چھوٹے گروہوں اور تخلیقی افراد کے لئے خیالات کو عملی جامہ پہنانے کی راہ ہموار کی ہے۔

تاہم تیاری میں اس سہولت اور رفتار نے ثقافتی اور ابلاغی چیلنجز کا ایک سلسلہ بھی ساتھ لایا ہے جو سنجیدہ توجہ اور دقیق تجزیے کا متقاضی ہے۔

خبر و تجزیاتی ویب سائٹ "بینا نیوز” کی رپورٹ کے مطابق، علومِ ابلاغ کے اساتذہ کی آراء کے جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس رجحان کو محض ایک عارضی لہر نہیں سمجھنا چاہیے۔

میڈیا خواندگی کے ماہرین و اساتذہ کے نزدیک سوشل میڈیا الگورڈمز اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے بڑے پیمانے پر مواد کی تیاری کا سب سے بڑا خطرہ، ناظر کو چند لمحوں تک روکے رکھنے کے لیے جھوٹے جذبات، سنسنی، خوف اور ہنگامہ آرائی پر شدید انحصار ہے۔

یہ عمل رفتہ رفتہ معاشرے کے بصری ذوق کو بدل دیتا ہے اور گہری، فنی و فکری داستانوں کو سمجھنے کی صلاحیت کو کمزور کر دیتا ہے۔

اسی طرح ان تخلیقات میں لسانی غلطیاں، فارسی الفاظ کا غلط تلفظ اور غیر فطری مکالمے، بالخصوص کم عمر ناظرین کے لئے ایک تباہ کن پوشیدہ استاد کا کردار ادا کرتے ہیں اور غلط بول چال کے تیزی سے پھیلنے کا باعث بنتے ہیں۔

ان جائزوں میں پروڈیوسرز سے آگے بڑھ کر ذمہ داری کی نشاندہی کی گئی ہے اور پلیٹ فارمز اور تقسیمی الگورڈمز کے کلیدی کردار پر زور دیا گیا ہے۔

الگورڈمز کو صرف "ویوز” اور "دیکھنے کے دورانیہ” کی بنیاد پر مواد کو فروغ نہیں دینا چاہیے، بلکہ الگورڈمز میں شفافیت، عمر کے لحاظ سے درست درجہ بندی، مصنوعی مواد پر لیبل لگانا اور اشاعت سے قبل معیار اور انسانی نگرانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

لسانی ماحول کی صحت سے غفلت اور زیادہ دیکھے جانے والے مواد پر نگرانی نہ کرنا معاشرے کے ثقافتی نظام کو سنگین خطرات سے دوچار کر سکتا ہے۔

آخر میں، مستقبل کی میڈیا دنیا کا دانشمندانہ سامنا کرنے کے لئے ناظرین کو "جدید خواندگیوں” یعنی میڈیا، بصری، خبری، الگورڈمک اور نفسیاتی خواندگی سے لیس ہونا ضروری ہے۔

باشعور ناظرین کو جاننا چاہیے کہ ان کا فعال انداز سے دیکھنا، لائک اور شیئر کرنا، آنے والے کل کی پروڈکشنز پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔

لہٰذا مصنوعی ذہانت کے دور میں حقیقی انسانی، اخلاقی اقدار اور ثقافتی شناخت کا تحفظ، اس شعبہ کے تمام فریقوں، تخلیق کاروں اور پلیٹ فارمز سے لے کر تعلیمی اداروں اور ناظرین تک، کی مشترکہ ذمہ داری کا تقاضا کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button