تاریخ اسلام

12 ربیع الثانی 132 ہجری سلسلہ بنو امیہ کے سقوط اور خلافت عباسیہ کے آغاز کا دن

12 ربیع الثانی 132 ہجری قمری اسلامی تاریخ کے اہم ترین موڑ میں سے ایک کی یاد تازہ کرتا ہے۔

وہ دن جب بنی امیہ کی حکومت کے باقاعدہ خاتمہ اور بنی عباس کے اقتدار سنبھالنے کے ساتھ عالم اسلام کا سیاسی و سماجی نظام ایک بالکل نئے دور میں داخل ہو گیا۔

اس موضوع پر ہمارے نمائندے کی رپورٹ ملاحظہ فرمائیں:

12 ربیع الثانی 132 ہجری قمری کو امت مسلمہ کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم ہوا۔

اس دن بنی امیہ کی 90 سالہ حکومت، جو امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی صلح کے واقعہ کے بعد معاویہ بن ابی سفیان کی خلافت سے وجود میں آئی تھی، زوال پذیر ہو گئی اور اس کی جگہ بنی عباس نے لے لی۔

بنی امیہ نے اپنے تقریباً ایک صدی کے دور اقتدار میں عرب قوم پرستی پر مبنی پالیسیاں، موالی یعنی غیر عربوں کے خلاف شدید امتیازی سلوک، اور مخالفین کے خلاف سخت ترین جبر و تشدد کو اپنا شعار بنائے رکھا۔

کربلا میں امام حسین علیہ السلام کی شہادت، واقعہ حرہ، خانہ کعبہ پر گولہ باری اور حجاج بن یوسف ثقفی کے مظالم اس حکومت کے سیاہ ترین کارنامے تھے جنہوں نے پوری اسلامی سلطنت میں عوامی نفرت اور متعدد قیاموں کی لہر کو جنم دیا۔

بنی امیہ کے زوال کی بنیاد دوسری صدی ہجری کے اوائل سے رکھی گئی، جب خراسان کے خطہ میں عباسیوں کی خفیہ تحریکیں وسعت اختیار کرنے لگیں۔

عباسیوں نے بڑی مکاری کے ساتھ عوام کے غصہ، بالخصوص موالی اور ایرانیوں کی بے چینی سے فائدہ اٹھایا جو بنو امیہ کے نسلی امتیاز سے تنگ آ چکے تھے، اور "الرضا من آل محمد” یعنی "آل محمد میں سے منتخب شخص کی رضا” جیسے عوام پسند نعرے کے ذریعہ وسیع حمایت حاصل کر لی۔

انہوں نے اہل بیت علیہم السلام سے لوگوں کی محبت اور ان کے خون کے انتقام کو اپنی تبلیغات کا محور بنایا، حالانکہ اقتدار حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اس نعرے کے حقیقی وارثوں سے بالکل مختلف راستہ اپنایا۔

آخری اموی خلیفہ مروان بن محمد المعروف مروان حمار کی جنگ زاب میں شکست اور اس کے قتل کے ساتھ ہی بنی امیہ کی خلافت کا مکمل خاتمہ ہو گیا اور ابو العباس سفاح نے کوفہ میں پہلے عباسی خلیفہ کے طور پر بیعت لی۔

بنی عباس کا اقتدار میں آنا صرف حکمران طبقے کی تبدیلی نہیں تھا، بلکہ اسلامی معاشرے کے سیاسی، انتظامی اور ثقافتی ڈھانچے میں ایک بنیادی انقلاب تھا۔

خلافت کا مرکز شام سے عراق منتقل ہو گیا اور حکومتی و عسکری امور میں غیر عرب اقوام، خاص طور پر ایرانیوں کا اثر و رسوخ بہت زیادہ بڑھ گیا۔

تاہم اہل بیت علیہم السلام کے پیروکاروں کی ابتدائی توقعات کے برخلاف، عباسی حکام نے بہت جلد اپنا حقیقی چہرہ بے نقاب کر دیا اور ائمہ اطہار علیہم السلام اور شیعوں پر پہلے سے بھی زیادہ سختیاں شروع کر دیں۔

اس تاریخی واقعہ کا مطالعہ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ ان دو خاندانوں کے درمیان اقتدار کی منتقلی میں سیاسی فریب اور انحرافی نعروں کے مقابلے میں امت مسلمہ کے ہوشیار اور بیدار رہنے کے لئے بڑے اسباق موجود ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button