چین سے یورپ سامان کی ترسیل کے لئے بحیرہ خزر کے راستے پر قزاقستان اور ترکمانستان میں مسابقت تیز ہوگئی

ایشیا اور یورپ کے درمیان تجارت میں اضافے کے بعد وسطی ایشیا کے ممالک کے درمیان چینی سامان کی ٹرانزٹ سے زیادہ حصہ لینے کی دوڑ تیز ہو گئی ہے۔
اس دوڑ میں ترکمانستان نے تیز رفتار راستہ پیش کر کے بحیرہ خزر سے گزرنے والے سامان کے اہم ترین راستے کے طور پر قزاقستان کی پوزیشن کو چیلنج کر دیا ہے۔
اس حوالے سے ہمارے ساتھی رپورٹر کی تیار کردہ رپورٹ دیکھتے ہیں:
چین سے یورپ تک سامان پہنچانے کا مرکزی راستہ بننے کے لئے خطے کے ممالک کی کوششوں نے بحیرہ خزر کے مشرقی حصے میں ٹرانزٹ مارکیٹ میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔
اس سے پہلے چین کا بیشتر تجارتی سامان قزاقستان سے گزرتا تھا اور پھر بحیرہ خزر کے راستے بحری جہازوں کے ذریعے آذربائیجان کی باکو بندرگاہ بھیجا جاتا تھا۔
لیکن حالیہ آزمائشی ترسیلات سے ثابت ہوا ہے کہ جنوبی راستہ یعنی کرغزستان، ازبکستان اور ترکمانستان کا راستہ سامان کو زیادہ تیزی سے اپنی منزل تک پہنچاتا ہے۔
وسطی ایشیا سے متعلق تجزیاتی چینل "کمپرومات” کی رپورٹ کے مطابق، ترکمانستان کی حکومت نے جامع منصوبہ بندی کی ہے تاکہ چینی تجارتی قافلوں کو قزاقستان کے راستے سے ہٹا کر اپنی خصوصی بندرگاہ "ترکمان باشی” کی طرف موڑا جا سکے۔
چین، کرغزستان، ازبکستان، ترکمانستان اور آذربائیجان کے درمیان پانچ ملکی معاہدے کے تحت اب مال بردار ٹرینیں صرف 11 دن میں سامان کرغزستان سے باکو بندرگاہ تک پہنچا رہی ہیں، اس پیش رفت نے قزاقستان کی حیثیت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
آذربائیجان ریلوے کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے ابتدائی آٹھ ماہ میں باکو اور ترکمان باشی بندرگاہوں کے درمیان سامان کی نقل و حمل کا حجم 35 فیصد اضافے کے ساتھ تقریباً 15 لاکھ ٹن تک پہنچ گیا ہے۔
سامان کا یہ حجم اسی عرصہ میں قزاقستان سے آذربائیجان منتقل ہونے والے سامان کے برابر ہے۔
کسٹم کے نظام کو الیکٹرانک بنانے اور کلیئرنس کے عمل میں تیزی نے بھی اس نئے راستے کی کشش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
اس کے علاوہ بین الاقوامی اداروں کے اشتراک سے لاجسٹکس اور کارگو سپورٹ کے نئے مراکز کی تعمیر کے منصوبے نے بڑی تجارتی کمپنیوں کا اعتماد ترکمانستان کے راستے پر بڑھا دیا ہے۔
دوسری جانب قزاقستان بھی مشرقی ایشیا کی اہم بندرگاہوں سے اپنے ریلوے نیٹ ورک کو جوڑ کر اور نئی سہولتیں دے کر اپنے بڑے صارفین کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان یہ سخت مسابقت بالآخر تاجروں کے حق میں جائے گی، کیونکہ قزاقستان کو ترکمانستان سے پیچھے نہ رہنے کے لیے کسٹم ڈیوٹی میں مزید رعایت اور مال برداری کے اخراجات میں کمی کرنا پڑے گی۔




