دنیا

نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کا آغاز

علاقائی بحران، بین الاقوامی کشیدگیاں اور مصنوعی ذہانت کی حکمرانی عالمی رہنماؤں کی توجہ کا مرکز

ایسے وقت میں جب بین الاقوامی نظام غیر معمولی خطرات سے دوچار ہے، نیویارک دنیا کے تقریباً 130 ممالک کے سربراہانِ مملکت اور رہنماؤں کی میزبانی کر رہا ہے جو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لئے جمع ہوئے ہیں۔

یہ اہم بین الاقوامی اجلاس ایسے حالات میں منعقد ہو رہا ہے کہ بڑھتے ہوئے معاشی بحران، نئی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سے لاحق خطرات اور جنگوں کو روکنے میں بین الاقوامی اداروں کی ناکامی، سفارتی مذاکرات کے بنیادی محور ہوں گے۔

اس ضمن میں اپنے ساتھی کی رپورٹ کی جانب آپ کی توجہ مبذول کراتا ہوں:

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اس دور کے اجلاس کا آغاز عالمی سطح پر متعدد چیلنجز کے سائے میں ہو رہا ہے۔

ایک جانب بعض بڑی طاقتوں کی طرف سے مالی واجبات کی عدم ادائیگی کے باعث اقوامِ متحدہ کا مسلسل مالی بحران، اور دوسری جانب تنازعات کے حل میں سلامتی کونسل کا کردار غیر مؤثر ہونا، اس اسی سالہ عالمی تنظیم کے مستقبل پر سنگین سوالات کھڑے کر رہا ہے۔

بعض بڑی طاقتوں کے سربراہان کی اس اجلاس میں عدم شرکت اور دوطرفہ ملاقاتوں کو ترجیح دینا بھی کثیر الجہتی سفارتکاری کے زوال کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارہ ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق، اس اجلاس کی تقاریر اور حاشیائی نشستوں کا ایک کلیدی موضوع مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے چیلنجز اور خطرات ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اس ٹیکنالوجی کی بے لگام ترقی کی دوڑ کے نتائج سے خبردار کرتے ہوئے، اس کے لئے بین الاقوامی قوانین اور ضابطہ کار وضع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

جبکہ ٹیکنالوجی کے حامل ممالک اور مشاورتی اداروں کے درمیان مصنوعی ذہانت کی نگرانی کے طریقہ کار پر گہرے اختلافات برقرار ہیں۔

اسی طرح مشرقِ وسطیٰ کی تازہ صورتحال، توانائی کی عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ، آبنائے باب المندب میں جہاز رانی کے راستوں کو لاحق خطرات، یوکرین جنگ اور اس کے عالمی غذائی تحفظ پر سنگین معاشی اثرات بھی سفارتکاروں کی مشاورت میں سرفہرست ہیں۔

مختلف ممالک کے حکام کی تقاریر اور بعض سیاسی شخصیات کو ویزے جاری نہ ہونا بھی اس دور کے اجلاس کی اہم حاشیائی خبروں میں شامل ہے۔

دریں اثناء، بجٹ خسارے اور بعض رکن ممالک کے ذمے واجب الادا رقوم کے باعث پیدا ہونے والے مالی دباؤ نے اقوامِ متحدہ کے امن دستوں اور امدادی اداروں کی عملی کارکردگی کو شدید متاثر کیا ہے۔

سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے جانشین کی نامزدگی کا معاملہ بھی، جن کی مدتِ ملازمت دسمبر 2026 میں ختم ہو رہی ہے، تنظیم کے مستقبل کے حوالے سے ابہام میں اضافہ کر رہا ہے۔

اس کے علاوہ، اس اجلاس کے حاشیہ پر سوڈان کے تنازعہ، بحیرہ اسود میں تجارتی گزرگاہوں کی سلامتی اور غذائی اجناس و زرعی کھادوں کی برآمد میں سہولت کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس بھی منعقد ہو رہے ہیں، تاکہ عالمی افراطِ زر پر قابو پانے اور دنیا بھر میں کم آمدنی والے طبقات پر بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کو کم کرنے کے لئے کوئی راستہ نکالا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button