شام میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج

شام میں ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ اور بڑھتی ہوئی معاشی مشکلات کے خلاف مختلف شہروں میں بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہوگیا ہے۔
اسے اسد حکومت کے خاتمے اور نئی حکومت کے قیام کے بعد ملک میں ہونے والے بڑے عوامی مظاہروں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق حکومت کی جانب سے ڈیزل کی قیمت میں 40 فیصد اضافہ، جبکہ پٹرول اور گیس کے نرخ بڑھائے جانے کے بعد حلب اور دمشق سمیت مختلف علاقوں میں مظاہرے ہوئے۔ مظاہرین نے اہم شاہراہوں اور ایندھن کی ترسیل کے راستے بھی بند کردیے۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق مظاہرین نے دمشق-حلب شاہراہ پر رکاوٹیں کھڑی کرکے آئل ٹینکروں کی نقل و حرکت روکی اور توانائی و اقتصادی امور کے وزرا کی برطرفی کا مطالبہ کیا۔
شامی وزارتِ توانائی نے قیمتوں میں اضافہ کی وجہ روسی ریفائنریوں کی پیداوار میں کمی اور بانیاس ریفائنری کی عارضی بندش کو قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کے مطابق شام کی تقریباً 90 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، جس کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کا سبب بن رہا ہے۔




