افغانستان کے شیعہ سرکردہ افراد کی گرفتاری اور حوزۂ علمیہ خاتم النبیینؐ کابل کی جبری بے دخلی پر امریکہ کی شیعہ فاؤنڈیشن کی اقوامِ متحدہ سے فوری مداخلت کی اپیل
افغانستان کے شیعہ سرکردہ افراد کی گرفتاری اور حوزۂ علمیہ خاتم النبیینؐ کابل کی جبری بے دخلی پر امریکہ کی شیعہ فاؤنڈیشن کی اقوامِ متحدہ سے فوری مداخلت کی اپیل
افغانستان میں شیعہ مذہبی و تعلیمی اداروں کے خلاف کریک ڈاؤن میں شدت آنے اور کابل میں شیعہ اداروں کو گھیرے میں لئے جانے کے بعد عالمی سطح پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
طالبان فورسز نے حوزۂ علمیہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ کے کمپلیکس پر دھاوا بول کر درجنوں اساتذہ اور طلبہ کو گرفتار کیا اور اس دینی مرکز کو زبردستی خالی کرا دیا۔
افغان خبر رساں ادارہ طلوع نیوز (TOLOnews) کے مطابق، امریکن شیعہ فاؤنڈیشن (Shia Muslim Foundation) نے ایک تفصیلی بیان جاری کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ گرفتار کیے گئے علماء کو بلاشرط فوری طور پر رہا کرایا جائے۔
فاؤنڈیشن نے واضح کیا کہ متعدد شیعہ علماء کی گرفتاری، شیعہ سپریم کونسل پر دھاوا اور بعض شیعہ کارکنوں کی گرفتاری اس بات کی علامت ہے کہ مذہبی اقلیتوں کی مذہبی آزادیوں کو شدید طور پر محدود کرنے کے لئے ایک منظم منصوبہ جاری ہے۔
امریکن شیعہ فاؤنڈیشن کے بیان کے مطابق، طالبان کی جانب سے اس کمپلیکس کی زمین کو سرکاری ملکیت قرار دینے کا دعویٰ بالکل غلط ہے، جبکہ متعلقہ ذمہ داران کے پاس اس زمین کے شرعی دستاویزات موجود ہیں۔
اس شیعہ تنظیم نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ طالبان کی سرگرمیوں کی نگرانی کی جائے اور زیرِ حراست علماء کی جان و سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں۔




