ایران

نئے تعلیمی سال کے آغاز پر ایران کے نظامِ تعلیم کو درپیش بڑھتے ہوئے چیلنجز

قوتِ خرید میں کمی اور طلبہ کی سرکاری اسکولوں کی جانب واپسی

ایران میں زندگی کے اخراجات میں بے تحاشا اضافے اور غیر سرکاری تعلیمی اداروں کی فیس میں نمایاں اضافے کے باعث خاندانوں کے بچوں کے داخلے کے رجحان میں بڑی تبدیلی آئی ہے۔ بڑی تعداد میں طلبہ نجی و غیر سرکاری اسکولوں سے نکل کر سرکاری اسکولوں کا رخ کر رہے ہیں۔

یہ صورتِ حال ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب سرکاری تعلیمی نظام پہلے ہی کلاس رومز میں طلبہ کی زیادہ تعداد، مالی مشکلات اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے مسائل سے دوچار ہے۔

اس موضوع کا جائزہ لینے والی ہمارے ساتھی کی رپورٹ ملاحظہ کیجیے:

ایران میں حالیہ معاشی تبدیلیوں اور خاندانوں کی قوتِ خرید میں کمی نے والدین کے تعلیمی فیصلوں کو نمایاں طور پر متاثر کیا ہے۔

غیر سرکاری اسکولوں میں داخلوں کی تعداد میں نمایاں کمی اور طلبہ کی سرکاری تعلیمی نظام کی جانب منتقلی نے ملک کے کئی شہری علاقوں میں سرکاری اسکولوں کی گنجائش کو بحرانی صورتِ حال سے دوچار کر دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں متعدد اسکولوں میں کلاسوں میں طلبہ کی تعداد مقررہ تعلیمی معیار سے کہیں زیادہ ہو گئی ہے۔

روزنامہ خراسان میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، فیس میں اضافے کے باعث طلبہ کی ایک بڑی تعداد سرکاری اسکولوں کی جانب منتقل ہوئی ہے۔ بعض اسکولوں میں، خصوصاً چھٹی جماعت میں، درجنوں طلبہ داخلے کے خواہش مند ہیں، لیکن گنجائش صرف چند طلبہ کے لیے باقی ہے۔ بعض کلاسوں میں طلبہ کی تعداد 50 تک پہنچ گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، کم بجٹ، تعمیراتی و بنیادی ڈھانچے کی کمزوری اور تدریسی عملے کی کمی جیسے پرانے مسائل کے ساتھ توانائی کے بحران اور طلبہ کی سرکاری اسکولوں کی جانب نئی لہر میں منتقلی جیسے نئے چیلنجز نے تعلیمی سال 1405-1406 ہجری شمسی کے آغاز پر ایران کے نظامِ تعلیم کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہنگائی اور مالی دباؤ کے باعث ایرانی خاندان نجی تعلیمی سہولیات سے دستبردار ہونے پر مجبور ہیں، جس کے نتیجے میں سرکاری اسکولوں کی گنجائش اور تدریسی عملے کی صلاحیت پر شدید دباؤ پڑ رہا ہے۔ یہ ساختی بحران مختلف شہروں میں تعلیمی مساوات اور تدریس کے معیار کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہا ہے۔

تعلیمی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عارضی اقدامات، مثلاً بار بار کلاسیں معطل کرنا یا غیر ماہرانہ انداز میں تدریسی عمل کو آن لائن پلیٹ فارم پر منتقل کرنا، طلبہ کے علمی، دینی اور اخلاقی تربیتی معیار کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے۔

نظامِ تعلیم اسلامی معاشرے کے بنیادی ستونوں میں سے ایک ہے۔ اس لیے ضرورت ہے کہ حکومت تعلیم و تربیت کو محض ایک اخراجاتی شعبہ سمجھنے کے بجائے اسے ملک کا بنیادی قومی سرمایہ قرار دیتے ہوئے اپنی پالیسی میں بنیادی تبدیلی لائے۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم، سرکاری تعلیمی اداروں کی استعداد میں اضافہ اور تدریسی عملے کی ضروریات پوری کرکے بچوں اور نوجوانوں کے تعلیمی و تربیتی ماحول کو طبقاتی فرق سے پیدا ہونے والے نقصانات سے محفوظ کیا جا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button