خلیج فارس میں فوجی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بدامنی سے عالمی معیشت لرز اٹھی؛ وال اسٹریٹ میں گراوٹ، مہنگائی میں اضافہ اور امریکہ و یورپ میں شدید کساد کا خطرہ
خلیج فارس میں فوجی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بدامنی سے عالمی معیشت لرز اٹھی؛ وال اسٹریٹ میں گراوٹ، مہنگائی میں اضافہ اور امریکہ و یورپ میں شدید کساد کا خطرہ
خلیج فارس میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش نے عالمی معیشت کو شدید دباؤ سے دوچار کردیا ہے۔ سپلائی چین میں خلل، پیداواری اخراجات میں اضافہ اور مہنگائی کی نئی لہر نے مغربی معیشتوں اور عالمی منڈیوں کو گہرے جھٹکے سے دوچار کردیا ہے۔
اس بحران کے اثرات صرف توانائی کی منڈیوں تک محدود نہیں رہے بلکہ وال اسٹریٹ کے اہم اشاریوں میں گراوٹ، صنعتی سرگرمیوں میں کمی اور دنیا بھر میں عوام کی قوتِ خرید متاثر ہونے کی صورت میں بھی سامنے آرہے ہیں۔
اس موضوع کا تفصیلی جائزہ لینے والے میرے ساتھی کی رپورٹ ملاحظہ کیجیے:
مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے نئے ابعاد اب صرف توانائی کے شعبہ تک محدود نہیں رہے، بلکہ دنیا کی اقتصادی، مالی اور صنعتی شریانیں بھی شدید خلل کا شکار ہورہی ہیں۔
امریکہ میں آپریٹنگ اخراجات میں مسلسل اضافہ کے ساتھ مرکزی بینک (فیڈرل ریزرو) کو آئندہ مالیاتی پالیسی اور شرحِ سود کے بارے میں فیصلہ کرنے میں دشواری کا سامنا ہے، جس کے باعث سرمایہ کاری کا ماحول غیر یقینی کا شکار ہوگیا ہے۔
جرمن نشریاتی ادارہ ڈوئچے ویلے کی رپورٹ کے مطابق امریکی اسٹاک مارکیٹ کے اہم اشاریوں میں ڈاؤ جونز تقریباً 1.2 فیصد نیچے آیا، جبکہ نیس ڈیک اور ایس اینڈ پی 500 میں بھی نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔
جی
وال اسٹریٹ کی یہ منفی صورتِ حال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی بے یقینی بڑھ رہی ہے اور مصنوعی ذہانت کے نئے ٹولز متعارف ہونے کے باعث بعض سافٹ ویئر کمپنیوں کے حصص دباؤ کا شکار ہوئے ہیں۔ اس صورتحال نے سرمایہ کاروں کو نسبتاً کم خطرے والے اثاثوں کی جانب متوجہ کیا ہے اور اقتصادی ترقی کی رفتار پر بھی منفی اثرات مرتب کئے ہیں۔
دوسری جانب یورپ گزشتہ دو دہائیوں کے مشکل ترین اقتصادی ادوار میں سے ایک کا سامنا کر رہا ہے۔ ایندھن اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے، بالخصوص قدرتی گیس کی فراہمی میں رکاوٹوں نے یورپی معیشت پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے باعث قطر سے ایل این جی کی ترسیل بھی شدید متاثر ہوئی ہے اور قطر انرجی نے بعض صارفین کو گیس کی ترسیل میں رکاوٹ کے باعث فورس میژر نافذ کیا ہے۔
نقل و حمل اور خام مال کی فراہمی کے اخراجات میں اضافے نے یورپ بھر میں سپلائی چین کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد صنعتی و پیداواری اداروں کو اپنی سرگرمیاں محدود کرنے یا پیداواری صلاحیت کم کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔
اس اقتصادی بحران کے اثرات اب دنیا کی بڑی معیشتوں پر واضح طور پر مرتب ہورہے ہیں۔
امریکہ میں زندگی گزارنے کے اخراجات اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے صارفین پر دباؤ بڑھا دیا ہے، جبکہ یورپ میں جرمنی، فرانس، اٹلی اور برطانیہ جیسی بڑی معیشتیں درآمدی مہنگائی، بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت اور صنعتی شعبے میں کمزور ہوتی سرگرمیوں کا سامنا کر رہی ہیں۔
اگر خلیج فارس میں کشیدگی برقرار رہتی ہے اور آبنائے ہرمز کے ذریعہ عالمی تجارت و توانائی کی ترسیل طویل عرصے تک متاثر رہتی ہے تو اس کے اثرات عالمی سطح پر مزید گہرے ہوسکتے ہیں۔
موجودہ حالات نے دنیا کی معیشت کو رکودِ تورمی (Stagflation) کے خطرے سے دوچار کردیا ہے؛ ایسی صورتِ حال جس میں مہنگائی کے ساتھ اقتصادی ترقی کی رفتار بھی سست پڑجاتی ہے۔
اس بحران سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے نہ صرف عالمی اقتصادی پالیسیوں میں توازن بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن، علاقائی استحکام اور عالمی تجارتی راستوں کی محفوظ و بلا رکاوٹ آمدورفت بھی ناگزیر ہے۔




