افغانستان خوست میں کتاب میلے کے دوران 12 صحافیوں کی گرفتاری
افغانستان خوست میں کتاب میلے کے دوران 12 صحافیوں کی گرفتاری
صوبہ خوست میں طالبان کے محکمہ امر بالمعروف کے محتسبین نے 12 مقامی صحافیوں کو، جو محکمہ اطلاعات و ثقافت کی باضابطہ دعوت پر کتاب میلے کی کوریج کے لئے آئے تھے، توہین آمیز انداز میں گرفتار کر لیا۔
ان اہلکاروں نے تصویر کشی اور زائرین سے گفتگو کے دوران انہیں کام سے روکا اور کیمرے ضبط کرنے کے بعد صحافیوں کو پیدل محکمہ امر بالمعروف کی عمارت میں منتقل کر دیا۔
افغانستان کے اخبار 8 صبح کی رپورٹ کے مطابق، افتتاحی تقریب میں وزارت تعلیم کے حکام اور طالبان کے سیکیورٹی کمانڈروں کی موجودگی بھی اس گرفتاری کو نہ روک سکی۔
اخبار 8 صبح کی رپورٹ کے مطابق، افغانستان جرنلسٹس سینٹر اور رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز تنظیم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر الگ الگ بیانات میں اس اقدام کو جابرانہ قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ گرفتاریاں جانداروں کی تصویر کشی پر پابندی کے نئے اور سخت منصوبے کے تحت عمل میں آئی ہیں جو اب 25 صوبوں میں نافذ ہے۔
خوست کے گورنر اور دیگر حکام کو اس واقعہ کا مکمل علم ہونے کے باوجود، آلات کی واپسی کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔
ان اداروں نے میڈیا کارکنوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو ختم کرنے اور ضبط شدہ سامان کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔




