نائجر کی فوجی کونسل کا پیرس پر ناکام بغاوت کی منصوبہ بندی میں مداخلت کا الزام

ساحل کے خطہ کے ممالک اور اپنے سابق نوآبادیاتی حکمران فرانس کے درمیان تعلقات اب بھی کشیدگی اور باہمی عدم اعتماد کا شکار ہیں۔ اس بار نائجر کی فوجی حکومت نے فرانس پر براہِ راست ایک ناکام بغاوت کی حمایت کا الزام عائد کرتے ہوئے مغربی افریقہ کے سیاسی بحران کے ایک نئے پہلو کو نمایاں کیا ہے۔
اس سلسلہ میں ہمارے ساتھی رپورٹر کی رپورٹ ملاحظہ فرمائیں:
مغربی افریقہ میں سلامتی اور سیاسی بحران ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ ساحل کے خطے میں قائم فوجی حکومتوں نے ایک بار پھر فرانس کو اپنے الزامات کا نشانہ بنایا ہے۔
نائجر کی فوجی کونسل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ فرانس نے گزشتہ 29 اگست کو ہونے والی ایک ناکام بغاوت کی منصوبہ بندی کرنے والے نیٹ ورک کی حمایت کی تھی۔
اس بغاوت کا مقصد نائجر کے دارالحکومت نیامی میں ایک فضائی اڈے اور صدارتی محل پر حملہ کرنا تھا، تاہم فوج کی مداخلت اور روسی افواج کی نام نہاد ’’افریقہ کور‘‘ کی مدد سے اسے ناکام بنا دیا گیا۔
نائجر کے حکام کا کہنا ہے کہ جمع کئے گئے شواہد کو بین الاقوامی اداروں میں قانونی کارروائی کے لئے محفوظ رکھا گیا ہے، جبکہ فرانسیسی وزارتِ خارجہ نے ان تمام الزامات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔
یہ واقعہ خطہ کے ممالک اور فرانس کے درمیان باہمی الزامات کے ایک طویل سلسلے کا حصہ ہے۔
مالی، برکینا فاسو اور نائجر میں فوجی حکومتوں کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ان ممالک کے رہنما متعدد مرتبہ پیرس پر اپنے ممالک کو غیر مستحکم کرنے اور اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کی کوششوں کا الزام لگا چکے ہیں۔
روزنامہ لوموند کی شائع کردہ رپورٹس کے مطابق، نائجر کے صدر نے اس سے قبل جنوری 2026 میں بھی مغرب کے حامی ممالک پر نیامی کے ہوائی اڈے میں ہونے والی بدامنی میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔
مالی اور برکینا فاسو میں بھی اسی نوعیت کے حالات دیکھنے میں آئے ہیں۔ مالی نے اگست 2025 میں ایک فرانسیسی سفارت کار کو جاسوسی کے الزام میں طویل مدت قید کی سزا سنائی، جبکہ برکینا فاسو نے بھی اپنے پڑوسی ممالک کے علاقائی فوجی اڈوں کو اپنی حکومت کے خلاف کارروائیوں کے مراکز قرار دیا۔
روزنامہ لوموند کے مطابق، ان کشیدہ تعلقات کی جڑیں فرانس کے نوآبادیاتی ماضی اور خطے میں اس کی سابقہ فوجی موجودگی میں پیوست ہیں۔
اس گہرے تصادم کی بنیاد 1960 میں آزادی کے بعد کے حالات اور تلخ نوآبادیاتی ورثے میں تلاش کی جانی چاہیے۔ نائجر کی جانب سے فرانسیسی سفیر کو ملک سے نکالنا، تقریباً 1500 فرانسیسی فوجیوں کا انخلا کروانا اور فرانسیسی میڈیا پر پابندیاں عائد کرنا، پیرس کی روایتی مداخلت کے خلاف عوام میں موجود دیرینہ غصے کی عکاسی کرتا ہے۔
تاہم، روزنامہ لوموند کے مطابق، انٹرنیشنل کرائسز گروپ جیسے بعض تحقیقی اداروں کا خیال ہے کہ فوجی حکمران بعض اوقات اپنی داخلی سکیورٹی کی ناکامیوں کو چھپانے اور ان کا جواز پیش کرنے کے لیے ’’بیرونی دشمن‘‘ کا کارڈ استعمال کرتے اور فرانس پر الزامات عائد کرتے ہیں۔
لوموند کے تجزیوں کے مطابق، مسلح گروہوں کے خلاف کارروائیوں میں فوج کو ہونے والے بھاری جانی نقصانات کے بعد نائجر کی فوج کے اندر نوجوان افسران اور داخلی اختلافات کا کردار بھی اہم ہے۔ اس لئے حالیہ بدامنی کی پیچیدہ داخلی وجوہات بھی موجود ہیں اور اسے صرف بیرونی عناصر کا نتیجہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔




