علم اور ٹیکنالوجی

’مصنوعی ذہانت ہماری جان کے لئے خطرہ‘ — انتھروپک ریسرچر کا مستعفی ہوتے ہوئے سنسنی خیز انکشاف

’مصنوعی ذہانت ہماری جان کے لئے خطرہ‘ — انتھروپک ریسرچر کا مستعفی ہوتے ہوئے سنسنی خیز انکشاف

واشنگٹن:امریکی اے آئی کمپنی انتھروپک کے ریسرچر جیکب کاکسن نے مصنوعی ذہانت کو انسانیت کے لئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے ملازمت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

27 سالہ کاکسن، جو اس سے قبل اوپن اے آئی میں بھی کام کر چکے ہیں، نے بدھ کو سوشل میڈیا پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ اے آئی لیبز سپر انٹیلیجنس بنانے کی دوڑ میں انسانی جانوں سے جوا کھیل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا، "میں نے پچھلے 3 سال پری-ٹریننگ ریسرچ میں گزارے، کوئی بھی کمپنی ذمہ داری سے کام نہیں کر رہی۔”

کاکسن کے مطابق، اے آئی سسٹم رواں دہائی کے آخر تک سپر ہیومن بن کر کسی بھی سسٹم کو ہیک کرنے اور راتوں رات انقلاب برپا کرنے کی صلاحیت حاصل کر لیں گے، اور چند برسوں میں انسانیت کے خاتمے کا باعث بن سکتے ہیں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ کئی سینئر ریسرچرز خود اس خطرے سے پریشان ہیں اور یہ کوئی مارکیٹنگ اسٹنٹ نہیں، کیونکہ "کوئی بھی دوسری انسانی سرگرمی اس سطح کا خطرہ پیدا نہیں کرتی جتنا اے آئی۔”

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button