25 ربیع الاول، صلحِ امام حسن علیہ السّلام؛خاموش تلوار کی گونج

25 ربیع الاول ہمیں تاریخ کے اس عظیم موڑ کی یاد دلاتا ہے جب امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے معاویہ کے ساتھ صلح کرکے بظاہر تلوار روک دی، مگر حقیقت میں حق و باطل کے درمیان ایک ایسی لکیر کھینچ دی جو قیامت تک مٹ نہیں سکتی۔
یہ صلح شکست نہیں تھی؛ یہ امامت کی بصیرت اور دوراندیشی کی فتح تھی۔ امام حسن علیہ السّلام نے ایسے حالات میں جنگ روکنے کا فیصلہ کیا جب آپؑ کے لشکر میں انتشار، بدعہدی اور کمزوری پیدا ہوچکی تھی اور مزید جنگ اہلِ حق کے بے شمار جانوں کے ضیاع کا سبب بن سکتی تھی۔
سلطان المؤلفین مرجع راحل آیۃ اللہ العظمیٰ سید محمد حسینی شیرازی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے "صلح الإمام الحسن علیہ السلام” میں صلح کو اسلام، امت اور شیعیانِ علی علیہ السلام کے تحفظ کی حکمتِ عملی قرار دیا، جبکہ مرجع عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی مدظلہ نے بھی اس حقیقت پر زور دیا کہ امامؑ نے حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے خونریزی روکنے اور حق کی حفاظت کا راستہ اختیار کیا۔
امام حسن علیہ السّلام نے معاویہ کے سامنے قرآن و سنت کی پابندی، مسلمانوں کے جان و مال کے تحفظ، شیعیانِ علی علیہ السلام کی امان اور آئندہ کسی کو جانشین مقرر نہ کرنے جیسی شرائط رکھیں۔ معاویہ کی بعد کی عہدشکنی نے اس کے دعوائے دینداری کا پردہ چاک کردیا اور امام حسن علیہ السّلام کی دوراندیشی کو تاریخ کے سامنے ثابت کردیا۔
امام حسن علیہ السّلام نے تلوار نیام میں رکھی تاکہ حق زندہ رہے؛ امام حسین علیہ السلام نے تلوار اٹھائی تاکہ وہی حق ہمیشہ کے لئے امر ہوجائے۔
یہی وجہ ہے کہ صلحِ حسن مجتبیٰ علیہ السلام اور قیامِ امام حسین علیہ السلام دو الگ راستے نہیں، بلکہ ایک ہی حسینی و حسنی مشن کے دو تاریخی مرحلے ہیں۔
سلام ہو اس امامؑ پر جس نے اپنی حکومت قربان کرکے امت کا خون بچایا، اور سلام ہو اس حسین علیہ السلام پر جس نے اپنا خون دے کر اسلام کو حیاتِ ابدی عطا کردی۔



