سعودی عرب کی مذہبی اصلاحات کے دعووں میں تضاد اور سلفیت کی ترویج کا تسلسل

افریقہ میں سعودی مذہبی اداروں کے اثر و رسوخ اور وہابیت کے افکار کے فروغ کے مختلف پہلو
اگرچہ سعودی عرب کے حکام اپنے ذرائع ابلاغ اور میڈیا مہمات کے ذریعہ سلفیت کے خلاف جدوجہد اور مذہبی بیانیہ کی ازسرِنو تشکیل پر زور دیتے ہیں، لیکن سعودی مذہبی اداروں کی سرگرمیوں کا تسلسل اور افریقی براعظم میں وہابی مکتبِ فکر کی کتابوں اور متون کی تقسیم اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ نظریاتی اثر و رسوخ کے پرانے ذرائع اب بھی برقرار ہیں۔ اس کے نتیجے میں خطے میں سلفی نظریات اور اسلام مخالف رویوں کے ایک نئے رجحان کے فروغ کے خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔
اس موضوع کا جائزہ لینے والی میرے ساتھی کی رپورٹ ملاحظہ کیجیے:
سعودی عرب کے مذہبی اور سرحد پار اقدامات کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی ذرائع ابلاغ میں ریاض کے تشہیری مؤقف اور بیرونِ ملک اس کے مذہبی اداروں کی عملی سرگرمیوں کے درمیان ایک گہرا تضاد موجود ہے۔
اگرچہ سعودی حکومت نے گزشتہ برسوں کے دوران خود کو ایک جدید، کھلے اور مذہبی اصلاحات کے حوالے سے ترقی پسند ملک کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے، تاہم افریقی براعظم میں اس کے مذہبی اداروں کی سرگرمیاں وہابی مکتبِ فکر سے وابستہ متون اور افکار کی منصوبہ بند اشاعت و ترویج کے تسلسل کی نشاندہی کرتی ہیں۔
خبر نیٹ ورک "نبأ” کے مطابق، سعودی وزارتِ اسلامی امور نے حال ہی میں نائجیریا کے شہر لاگوس میں تقریباً 150 طلبہ اور دینی علوم کے محققین کے لیے ایک تربیتی پروگرام منعقد کیا، جس میں بنیادی طور پر ابنِ تیمیہ کی کتاب "متن العقیدۃ الواسطیہ” کی تدریس اور تشریح کی گئی۔
اس نیٹ ورک نے زور دیا کہ ریاض کے حکام اگرچہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ایسے پروگرام اعتدال کے فروغ کے مقصد سے منعقد کیے جاتے ہیں، تاہم اس کے مطابق عملی طور پر ان اقدامات سے مقامی افریقی معاشروں میں شدت پسندانہ افکار کے پھیلاؤ اور سلفی رجحانات کے گہرے ہونے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔
افریقی براعظم میں سعودی عرب کے نظریاتی اثر و رسوخ کی تاریخ گزشتہ کئی دہائیوں پر محیط ہے، جس میں مساجد، مدارس اور دینی مراکز کی تعمیر اور تعلیمی وظائف کی فراہمی کے لئے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری شامل رہی ہے۔ شائع شدہ اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ تین دہائیوں کے دوران اس شعبے میں سعودی اخراجات کا تخمینہ تقریباً 100 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔
اسی سلسلہ میں کینیا، تنزانیہ اور یوگنڈا جیسے ممالک کے مسلمانوں کو 5 ہزار سے زائد یونیورسٹی وظائف دینا اور مشرقی افریقہ میں مذہبی محققین کے لیے رہائشی یونٹس تعمیر کرنا بھی وہابی افکار سے متاثرہ فکری تحریکوں کے لئے بنیاد فراہم کرنے کے مقصد سے کیا گیا۔
دوسری جانب، نصابِ تعلیم کی تیاری میں مداخلت، تعلیمی کتب کی فراہمی اور افریقی مدارس و جامعات میں مذہبی مبلغین کی تعیناتی کے ذریعہ ریاض کو خطے کے دینی طبقے اور مذہبی رہنماؤں کی تربیت کے عمل پر براہِ راست اثر انداز ہونے کا موقع ملا ہے۔
ان سرحد پار سرگرمیوں اور سلفی و شدت پسندانہ متون کی مسلسل تقسیم نے مذہبی اصلاحات سے متعلق سعودی عرب کے دعووں کی سنجیدگی پر شدید سوالات اٹھائے ہیں اور عالمی سطح پر سلفی افکار کے دوبارہ فروغ کے حوالے سے تشویش میں اضافہ کیا ہے۔




